اتوار، 1 نومبر، 2026
ہوم پیج

گردوں کی صحت: غذا، پانی اور ادویات میں احتیاط

تحریر: ڈاکٹر عائشہ رضی1 نومبر، 20261,540قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۶ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گردوں کی صحت: غذا، پانی اور ادویات میں احتیاط
فل اسکرین دیکھیں

گردے روزانہ تقریباً 50 گیلن خون کو صاف کرنے کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں۔یہ عمل اتنا خاموش ہے کہ اکثر لوگوں کو گردوں کے بارے میں تب ہی خیال آتا ہے جب کوئی مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ گردوں کی حفاظت صرف کھانے پینے تک محدود نہیں—پانی کا متوازن استعمال اور ادویات کا محتاط استعمال بھی اتنا ہی اہم ہے۔

اس مضمون میں ہم تین بنیادی پہلوؤں کا احاطہ کریں گے: کیا کھائیں اور کس سے پرہیز کریں،پانی کتنا اور کیسے پیئں،اور ادویات کا استعمال کن احتیاطوں کے ساتھ کریں۔یہ معلومات معتبر سائنسی تحقیق—بشمول Cochrane کے منظم جائزوں،JAMA اور BMJ میں شائع شدہ مطالعات،اور نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کی رہنمائی—پر مبنی ہیں۔

کیا کھائیں،کس سے پرہیز کریں؟

گردوں کے لیے مفید غذائیں

پھل: سیب،بیریاں (بلیو بیری،اسٹرابیری،رسبری)،انگور،ناشپاتی،آڑو اور آناناس—ان میں پوٹاشیم کم اور اینٹی آکسیڈنٹ زیادہ ہوتے ہیں۔بیریوں میں پائے جانے والے پولی فینولز سوزش کم کرتے ہیں۔کیلا،سنترا اور خشک میوہ جات پوٹاشیم میں زیادہ ہونے کی وجہ سے احتیاط سے استعمال کریں،خاص طور پر اگر گردوں کی بیماری پہلے سے موجود ہو۔

سبزیاں: گوبھی،بند گوبھی،شملہ مرچ،پیاز،کھیرا اور مولی پوٹاشیم اور فاسفورس میں نسبتاً کم ہیں۔لہسن میں فی مقدار پوٹاشیم دراصل کافی زیادہ ہوتا ہے،مگر چونکہ اسے مصالحے کے طور پر بہت تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے،اس لیے یہ عملی طور پر پوٹاشیم میں قابلِ ذکر اضافہ کیے بغیر پیاز کی طرح قدرتی ذائقہ دے کر نمک کی ضرورت کم کر دیتا ہے۔پالک اور شکرقندی جیسی غذائیت سے بھرپور سبزیاں پوٹاشیم زیادہ ہونے کی وجہ سے محدود مقدار میں کھائیں۔

پروٹین: انڈے کی سفیدی،مچھلی (سالمن،میکریل،سارڈین)،سویا اور دالیں بہترین انتخاب ہیں۔مچھلی میں موجود اومیگا-3 چکنائی خون کی نالیوں کی صحت بہتر بناتی ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نباتاتی پروٹین (دالیں،سویا) کو ترجیح دینے سے کولیسٹرول اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔(Papaodyssea et al., 2025)

اناج اور چکنائی: سفید چاول،دلیہ اور پاستا فاسفورس میں کم ہونے کی وجہ سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔زیتون کا تیل صحت مند چکنائی کا بہترین ذریعہ ہے۔

مشروبات: پانی،بغیر چینی کے لیموں پانی اور سادہ چائے مناسب مقدار میں محفوظ ہیں۔

گردوں کے لیے نقصان دہ غذائیں

(۱)پراسیس شدہ و ڈبہ بندخوراک(چپس،فاسٹ فوڈ،ڈبہ بند سوپ،اچار)میں سوڈیم کی بہت زیادہ مقدارہے۔

(۲)پراسیس شدہ گوشت(ساسیج،سلامی،فروزن قیمہ)میں سوڈیم اور فاسفورس ایڈیٹِوزہوتے ہیں۔

(۳) میٹھے مشروبات(کولا،انرجی ڈرنک،پیکٹ جوس)میں فاسفورک ایسڈ اور زائد شکرہوتے ہیں،جو بالواسطہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر بڑھاتے ہیں۔

(۴) زیادہ پوٹاشیم والی غذائیں (کیلا،آلو،ٹماٹر،خشک میوہ جات) CKD میں خون میں پوٹاشیم جمع ہو کر دل کی دھڑکن متاثر کر سکتا ہے۔

(۵) نمکین ناشتے(چپس،نمکو،اچار،پاپڑ)میں براہِ راست سوڈیم کی زیادتی ہے۔

پیکٹ بند غذائیں خریدتے وقت اجزاء کی فہرست ضرور پڑھیں۔اگر کسی لفظ میں "فاس" (Phos) شامل ہو تو یہ اضافی فاسفورس کی نشانی ہے،جو قدرتی خوراک کے فاسفورس سے کہیں زیادہ آسانی سے جسم میں جذب ہوتا ہے۔

عملی حکمتِ عملی

1. کھانے کی میز سے نمک دان ہٹا کر لیموں،سرکہ یا جڑی بوٹیوں سے ذائقہ بڑھائیں۔

2. تازہ خریدیں؛ڈبہ بند سبزیوں یا پھلیوں کو پانی سے دھو کر استعمال کریں۔

3. ہفتے میں دو دن مچھلی،تین دن دالیں یا سویا شامل کریں۔

4. میٹھے مشروبات کی جگہ پانی یا لیموں پانی پیئں۔

5. کبھی کبھار کیلا یا آلو کھانا نقصان دہ نہیں—مکمل پرہیز صرف معالج کی ہدایت پر ضروری ہے۔

پروٹین کا توازن—مرض کے مرحلے کے مطابق

ابتدائی مرحلے کے گردوں کے مریضوں کے لیے کم پروٹین والی غذا (0.6–0.8 گرام فی کلوگرام وزن) فائدہ مند ثابت ہوئی ہے،کیونکہ اس سے بیماری کے آخری مرحلے تک پہنچنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔(Amiri Khosroshahi et al., 2025؛Li et al., 2020)

تاہم ڈائیلاسز پر موجود مریضوں کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ڈائیلاسز کے دوران جسم سے پروٹین ضائع ہوتا ہے اور جسمانی ٹوٹ پھوٹ بڑھ جاتی ہے،اس لیے ایسے مریضوں کو عام طور پر زیادہ،نہ کہ کم،پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ضرورت سے زیادہ پرہیز غذائی قلت (Protein-Energy Malnutrition) کا باعث بن سکتی ہے،جو خود مریض کی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہے (Ahmad et al., 2019) اسی لیے پروٹین کی مقدار کا تعین ہمیشہ مرض کے مرحلے کے مطابق،معالج کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

ایک اہم انتباہ: گردوں کے مریض "نمک کے متبادل" (Salt Substitutes) استعمال نہ کریں،کیونکہ ان میں پوٹاشیم کلورائیڈ شامل ہوتا ہے جو ہائپرکلیمیا (خون میں پوٹاشیم کی خطرناک زیادتی) پیدا کر سکتا ہے،جو دل کی دھڑکن کو متاثر کر سکتی ہے۔(Ahmad et al., 2019)

پانی کا استعمال—نہ کمی مناسب،نہ زیادتی

یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ "جتنا زیادہ پانی،اتنا فائدہ"—مگر یہ سچ نہیں۔

کم پانی پینے کے نقصانات: ناکافی پانی گردے کی پتھری،پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور شدید صورتوں میں Acute Kidney Injury کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

زیادہ پانی پینے کے نقصانات: گردے عموماً ایک وقت میں تقریباً آدھا لیٹر پانی فی گھنٹہ ہی مؤثر طریقے سے فلٹر کر سکتے ہیں۔اس رفتار سے زیادہ پانی پینے سے خون میں سوڈیم کی مقدار خطرناک حد تک کم ہوسکتی ہے (Hyponatremia)،جس کی علامات میں سردرد،متلی،الجھن اور شدید صورت میں دورے شامل ہیں۔یہ خطرہ خاص طور پر کمزور گردوں والے افراد اور بعض ادویات (جیسے اینٹی ڈپریسنٹس) استعمال کرنے والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

مناسب مقدار: عمومی طور پر مردوں کے لیے روزانہ تقریباً 3.7 لیٹر اور خواتین کے لیے تقریباً 2.7 لیٹر مجموعی سیال (خوراک اور مشروبات سے) مناسب سمجھا جاتا ہے،مگر یہ سرگرمی،موسم اور صحت کے مطابق بدل سکتا ہے۔سب سے آسان اصول: پیاس کو رہنما بنائیں،اور پیشاب کے رنگ پر نظر رکھیں—ہلکا زرد رنگ مناسب ہائیڈریشن کی علامت ہے،جبکہ بالکل بے رنگ پیشاب اکثر زیادہ پانی پینے کی نشاندہی کرتا ہے۔CKD کے مریضوں کے لیے پانی کی مقدار ہمیشہ معالج کی ہدایت کے مطابق طے ہونی چاہیے،کیونکہ بعض مراحل میں سیال محدود کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔نیز،یہ بھی ذہن میں رہے کہ گردوں کی موجودہ بیماری میں محض زیادہ پانی پینے سے گردوں کے فعل کی کمی کی رفتار سست نہیں ہوتی—ایک بڑے کلینیکل تجربے (CKD WIT Trial) نے یہ ثابت کیا کہ ایک سال تک زیادہ پانی پلانے کے باوجود گردوں کے فعل میں کمی کی رفتار میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔(Clark et al., 2018)

ادویات کا بلا نگرانی استعمال—ایک نظر انداز کیا جانے والا خطرہ

خوراک اور پانی کے علاوہ،بلا مشورہ ادویات کا استعمال بھی گردوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

درد کش ادویات (NSAIDs)

Ibuprofen،Diclofenac اور Naproxen جیسی عام درد کش ادویات کا طویل یا بلا ضرورت استعمال گردوں کو براہِ راست نقصان پہنچا سکتا ہے۔یہ ادویات پروسٹاگلینڈنز نامی کیمیائی مادوں کو روکتی ہیں،جو گردوں میں خون کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔اس روانی میں کمی سے گردوں کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے،جو Acute Kidney Injury اور طویل مدتی استعمال کی صورت میں دائمی گردوں کی بیماری (CKD) کا سبب بن سکتی ہے۔جنوبی کوریا کے ایک حالیہ مطالعے (2025) سے معلوم ہوا کہ باقاعدہ NSAID استعمال کرنے والے بزرگ افراد میں گردوں کی بیماری کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں تقریباً 46 فیصد زیادہ تھا۔

عملی مشورہ: سردرد،جوڑوں کے درد یا بخار کے لیے درد کش ادویات ہفتوں یا مہینوں تک بغیر معالج کے مشورے کے استعمال نہ کریں۔اگر گٹھیا یا کسی دائمی درد کی وجہ سے طویل مدتی درد کش ادویات ناگزیر ہوں،تو معالج سے مندرجہ ذیل متبادل حکمت عملیوں پر بات کریں:

• فزیوتھراپی اور ورزش کے ذریعے درد کا انتظام

• وزن میں کمی،جو جوڑوں پر دباؤ کم کرتی ہے

• درد کش مرہم یا جیل کا مقامی استعمال،جو گولیوں کے مقابلے میں گردوں پر کم اثرانداز ہوتا ہے

• کم سے کم مؤثر خوراک اور گردوں کے افعال کی باقاعدہ جانچ

یونانی طریقہ علاج: ایک ممکنہ متبادل

جن مریضوں کو دائمی درد کی وجہ سے طویل عرصے تک درد کش ادویات درکار ہوں،ان کے لیے یونانی طریقہ علاج (Unani System of Medicine) ایک متبادل کے طور پر زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔یونانی طب میں سوزش اور جوڑوں کے درد کے لیے مخصوص جڑی بوٹیوں،تیل کی مالش (روغن) اور غذائی حکمتِ عملی کا استعمال صدیوں سے رائج ہے،اور کچھ مریض اسے NSAIDs پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک معاون ذریعہ سمجھتے ہیں۔اگر کوئی مریض یہ راستہ اختیار کرنا چاہے تو اسے کسی مستند اور رجسٹرڈ حکیم سے رجوع کرنا چاہیے،نہ کہ خود سے کوئی نسخہ اختیار کرنا۔

اہم احتیاط: یہ ذہن نشین رہے کہ ہر "قدرتی" یا "دیسی" علاج خودبخود گردوں کے لیے محفوظ نہیں ہوتا۔بعض جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات میں ایسے اجزاء پائے گئے ہیں جو خود گردوں کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو چکے ہیں—طبی لٹریچر میں ایسے کئی واقعات درج ہیں جہاں غیر معیاری جڑی بوٹیوں کے استعمال سے گردے مستقل طور پر ناکارہ ہو گئے۔لہٰذا یونانی ہو یا کوئی اور نظامِ علاج،اور دوا ایلوپیتھک ہو یا جڑی بوٹیوں پر مبنی—ہر دوا صرف اسی وقت محفوظ ہے جب وہ مستند معالج یا حکیم کی سخت نگرانی میں،صحیح مقدار میں اور معیاری ذریعے سے تیار کردہ ہو۔خود سے تشخیص کر کے یا کسی غیر مستند ذریعے سے حاصل کردہ جڑی بوٹیوں کا استعمال،درد کش گولیوں کے غیر ضروری استعمال جتنا ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اینٹی ڈپریسنٹس اور گردے

اینٹی ڈپریسنٹس،خاص طور پر SSRIs (جیسے Sertraline،Escitalopram)،بعض افراد میں خون میں سوڈیم کی سطح کم کر سکتی ہیں (Hyponatremia)،جس کا تعلق گردوں کی پانی اور نمک کا توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت سے ہے۔ایک بڑے مطالعے سے معلوم ہوا کہ نئی اینٹی ڈپریسنٹ ادویات شروع کرنے والے مریضوں میں پہلے تیس دنوں کے دوران شدید Hyponatremia کے باعث ہسپتال داخلے کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تھا جو یہ ادویات استعمال نہیں کر رہے تھے (Gandhi et al., 2017) یہ خطرہ بزرگ افراد،کم وزن والے افراد اور پہلے سے کمزور گردوں والے مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

عملی مشورہ: اینٹی ڈپریسنٹ یا کوئی بھی ذہنی صحت کی دوا شروع کرنے کے بعد سردرد،الجھن،متلی یا غیر معمولی کمزوری محسوس ہو تو فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔یہ ادویات کبھی خود سے بند یا شروع نہ کریں۔

سائنسی بنیاد: چند اہم اعداد و شمار

• نمک میں کمی: 1,197 CKD مریضوں پر کیے گئے Cochrane جائزے نے "اعلیٰ درجے کے یقینی شواہد" کی بنیاد پر ثابت کیا کہ روزانہ نمک میں 4.2 گرام کمی سے بلڈ پریشر اور البیومین یوریا میں نمایاں کمی آتی ہے۔(McMahon et al., 2021)

• متوازن غذا: 568,000 سے زائد افراد کے مطالعے میں DASH طرزِ خوراک اپنانے والوں میں CKD کا خطرہ 28 فیصد کم پایا گیا (Taghavi et al., 2019) 630,000 سے زائد افراد کے وسیع تجزیے میں صحت بخش غذائی طرزِ زندگی سے نئے CKD کیسز کا خطرہ 30 فیصد کم ہوا۔(Bach et al., 2019)

• مچھلی سے اومیگا-3: 25,500 سے زائد افراد کے تجزیے میں سمندری اومیگا-3 کی زیادہ مقدار CKD کے خطرے میں 13 فیصد کمی سے وابستہ پائی گئی۔(Ong et al., 2023)

اختتامیہ

گردوں کی حفاظت کسی ایک "سپر فوڈ" یا سخت پرہیز کا نام نہیں،بلکہ ایک مجموعی طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے: متوازن اور کم پراسیس شدہ خوراک،پانی کا اعتدال میں استعمال،اور—سب سے اہم—کوئی بھی دوا،چاہے وہ عام درد کش گولی ہو،ذہنی صحت کی دوا ہو،یا یونانی جڑی بوٹی،صرف مستند معالج یا حکیم کی سخت نگرانی میں استعمال کرنا۔جنھیں پہلے سے گردوں کا کوئی مسئلہ تشخیص ہو چکا ہے،ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خوراک،پانی کی مقدار اور تمام ادویات سے متعلق ہر فیصلہ اپنے معالج یا ماہرِ غذائیت کے مشورے سے کریں،کیونکہ ہر مریض کی صورتحال اور ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔

مراجع

Amiri Khosroshahi, R., Zare, M., Zeraattalab-Motlagh, S., Kiany, F., Talebi, S., & Mohammadi, H. (2025). Effects of a low-protein diet on kidney function in patients with chronic kidney disease: An umbrella review of systematic reviews and meta-analyses of randomized controlled trials. Nutrition Reviews, 83(7), e2127–e2138. https://doi.org/10.1093/nutrit/nuae178

Bach, K. E., Kelly, J. T., Palmer, S. C., Khalesi, S., Strippoli, G. F. M., & Campbell, K. L. (2019). Healthy dietary patterns and incidence of CKD: A meta-analysis of cohort studies. Clinical Journal of the American Society of Nephrology, 14(10), 1441–1449. https://doi.org/10.2215/CJN.00530119

Clark, W. F., Sontrop, J. M., Huang, S.-H., Gallo, K., Moist, L., House, A. A., Cuerden, M. S., Weir, M. A., Bagga, A., Brimble, S., Burke, A., Muirhead, N., Pandeya, S., & Garg, A. X. (2018). Effect of coaching to increase water intake on kidney function decline in adults with chronic kidney disease: The CKD WIT randomized clinical trial. JAMA, 319(18), 1870–1879. https://doi.org/10.1001/jama.2018.4930

Gandhi, S., Shariff, S. Z., Al-Jaishi, A., Reiss, J. P., Mamdani, M. M., Hackam, D. G., Li, L., McArthur, E., Weir, M. A., & Garg, A. X. (2017). Second-generation antidepressants and hyponatremia risk: A population-based cohort study of older adults. American Journal of Kidney Diseases, 69(1), 87–96. https://doi.org/10.1053/j.ajkd.2016.08.020

Institute of Medicine (National Academies of Sciences, Engineering, and Medicine). (2005). Dietary reference intakes for water, potassium, sodium, chloride, and sulfate. The National Academies Press. https://doi.org/10.17226/10925

Li, Q., Wen, F., Wang, Y., Li, S., Lin, S., Qi, C., Chen, Z., Qiu, X., Zhang, Y., Zhang, S., Tao, Y., Feng, Z., Li, Z., Li, R., Ye, Z., Liang, X., Liu, S., Xie, J., & Wang, W. (2020). Diabetic kidney disease benefits from intensive low-protein diet: Updated systematic review and meta-analysis. Diabetes Therapy, 12(1), 21–36. https://doi.org/10.1007/s13300-020-00952-5

Lim, J.-S., Han, S., Kim, J. S., Kim, S., & Oh, B. (2025). Effects of NSAIDs on early CKD development: A 10-year population-based study using the Korean Senior Cohort. Drugs & Aging, 42(10), 953–961. https://doi.org/10.1007/s40266-025-01239-9

Lucas, G. N. C., Leitão, A. C. C., Alencar, R. L., Xavier, R. M. F., Daher, E. F., & Silva Junior, G. B. (2019). Pathophysiological aspects of nephropathy caused by non-steroidal anti-inflammatory drugs. Brazilian Journal of Nephrology (Jornal Brasileiro de Nefrologia), 41(1), 124–130. https://doi.org/10.1590/2175-8239-JBN-2018-0107

McMahon, E. J., Campbell, K. L., Bauer, J. D., Mudge, D. W., & Kelly, J. T. (2021). Altered dietary salt intake for people with chronic kidney disease. Cochrane Database of Systematic Reviews, 2021(6), CD010070. https://doi.org/10.1002/14651858.CD010070.pub3

National Kidney Foundation of Michigan. (2024). Kidney-friendly food list and tips. https://nkfm.org/wp-content/uploads/2024/04/Kidney-Friendly-Food-List-Tips_final.pdf

Ong, K. L., Marklund, M., Huang, L., Rye, K.-A., Hui, N., Pan, X.-F., Rebholz, C. M., Kim, H., Steffen, L. M., van Westing, A. C., Geleijnse, J. M., Hoogeveen, E. K., Chen, Y.-Y., Chien, K.-L., Fretts, A. M., Lemaitre, R. N., Imamura, F., Forouhi, N. G., Wareham, N. J., … Wu, J. H. (2023). Association of omega 3 polyunsaturated fatty acids with incident chronic kidney disease: Pooled analysis of 19 cohorts. BMJ, 380, e072909. https://doi.org/10.1136/bmj-2022-072909

Papaodyssea, I., Lagiou, A., Tzoulaki, I., Valanou, E., & Naska, A. (2025). The effect of increased plant protein intake on the lipid profile of chronic kidney disease patients: A meta-analysis of controlled clinical trials. Nutrients, 17(9), 1408. https://doi.org/10.3390/nu17091408

Ahmad, Q. Z., Usman, M., Ilahi, A., Rahman, A. U., & Rashid, M. (2019). Dietary approach to chronic kidney insufficiency (CKI). Journal of Nutrition, Health & Food Science, 7(3), 1–9. https://doi.org/10.15226/jnhfs.2019.001163

Rozga, M., Burrowes, J. D., Byham-Gray, L. D., & Handu, D. (2021). Effects of sodium-specific medical nutrition therapy from a registered dietitian nutritionist in individuals with chronic kidney disease: An Evidence Analysis Center systematic review and meta-analysis. Journal of the Academy of Nutrition and Dietetics, 122(2), 445–460.e19. https://doi.org/10.1016/j.jand.2021.03.016

Taghavi, M., Sadeghi, A., Maleki, V., Nasiri, M., Khodadost, M., Pirouzi, A., Rashid-Beigi, E., Sadeghi, O., & Swann, O. (2019). Adherence to the dietary approaches to stop hypertension-style diet is inversely associated with chronic kidney disease: A systematic review and meta-analysis of prospective cohort studies. Nutrition Research, 72, 46–56. https://doi.org/10.1016/j.nutres.2019.10.007

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

گردوں کی صحت: غذا، پانی اور ادویات میں احتیاط - دی فری لانسر | دی فری لانسر