کل ۲۶؍ اپریل۲۰۲۱ کے صرف پندرہ منٹ باقی تھے،
’آپ کی اطلاع کے لیے‘
میسج تھا:
’’مولانا اقبال جامعی نہ رہے
آج (۱۴؍رمضان۱۴۴۲ھ مطابق۲۶؍اپریل۲۰۲۱ء)اچانک واٹس اپ پر خبر آئی کہ مولانا اقبال جامعی لکھنؤ میں انتقال کرگئے۔انا لله وانا اليہ راجعون
بعد نماز مغرب افطار کے بعد وفات ہوئی اور وصیت کے مطابق لکھنؤ ہی میں بعد نماز عشاء تدفین بھی ہوگئی۔
جامعی صاحب کتابوں کی دنیا کے آدمی،
ایک خلق کو اللہ نے ان سے فائدہ پہنچایا۔
بنگلور تشریف لانے والے معتبر علماء اہل حدیث میں سے شاید ہی کوئی ہوں جو ان کے قدردان نہ رہے ہوں۔اکثر علماء،
ان کی خدمات کو ضبط تحریر میں لاکر مدون و محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔
آخری ایام میں بنگلور چھوڑ کر لکھنؤ میں بسیرا کرلیا تھا اور میسر معلومات کے مطابق وہاں مسجد بلال کی خدمت اپنے ذمہ لے لی تھی۔مسجد کی دیکھ ریکھ کے ساتھ اذان اور کبھی کبھار امامت بھی کرلیا کرتے تھے۔اور اسی خدمت سے مرتے دم تک وابستہ رہے۔
کتابوں سے رشتہ وہاں بھی جوڑ لیا تھا اور وہاں بھی نوجوان مستفید ہونے کے لیے اردگرد اکٹھا ہونے لگے تھے۔مگر سفر مختصر ثابت ہوا۔
غفر الله لہ وأسكنہ فسيح جناتہ آمين
(حافظ عبدالحسیب عمری مدنی)‘‘
۲۳؍مارچ۲۰۰۴ کو دفتر صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک و گوا میں ملازمت کے لیے میرا انٹرویو مولانا نے ہی لیا تھا۔مولانا اعجاز احمد ندوی صاحب (داعی صوبائی جمعیت) نے زبانی توصیہ بھی دے دیا تو اپواینٹ کرلیا گیا۔ذمے داری کا نام تھا ’آفس سکریٹری‘ اور کام صبح شام آفس کھولنا بند کرنا نیز مسجدوں میں دروس اور اخبارات (سالار،
فراغت سے چھ مہینے پہلے سے ہی لیا ہوا مسجد اور مدرسے میں کام نہ کرنے کا عہد نبھانا آسان کام نہیں تھا،
ایسے میں آخری تعلیمی سال کے ہمارے ساتھی شیخ عبدالجبار رحمانی صاحب نے بنگلور بلالیا اور صوبائی جمعیت کے جنرل سیکرٹری اسلم بھائی سے ملوادیا۔اور اسلم بھائی نے مجھے مولانا اقبال جامعی صاحب کے سامنے پیش کردیا۔
یہ پیشی آج بہت یاد آئی۔وہ پہلی نظر ہو یا چوبیس مئی کی مولانا کی آخری نظر جب بھی ملتی ایسا لگتا جیسے سی سی ٹی وی سے نظر مل گئی ہو۔ڈر نہیں لگتا،
بھلا ہو حافظ عبدالمتین صاحب کا کہ کئی بار اس چار مینار بک سنٹر میں مجھے آتے جاتے اور کتابیں الٹ پلٹ کر رکھتے دیکھا تو ایک دن مسکراتے ہوئے کہا مولانا سے پوچھ کر پڑھنے کے لیے لے جاسکتے ہو۔
حافظ عبدالمتین صاحب مسجد چارمینار کے مؤذن تھے اور مکتبے میں مولانا کے ساتھی۔سر پر سفید چاینیز ٹوپی اور مولانا کی طرح ہی کسی رنگ کے کرتے میں ہوتے،
میں نے کمپیوٹر یہیں سیکھا۔جب کتاب ’مہمان خانے‘ میں لے جانے کی اجازت مل گئی تو کئی کتابوں کے بیچ ایک دن کمپیوٹر گائڈ بھی لے آیا۔
کھانے اور مہمان خانے کی تو داستان ہی بڑی عجیب ہے۔دو ہزار روپے تنخواہ تھی،
پیاس بجھانا آسان تھا مگر کھانے کی دقت باقی ہی رہی۔ایسا بھی نہیں کہ میری خوراک زیادہ تھی۔ہاں دوسری سرگرمیاں ذرا مصروف رکھتی تھیں۔سمر کورس پڑھانے کا آرڈر بھی مل گیا تھا۔مسجد کے ٹھیک سامنے ہی ایک بلڈنگ میں یہ کورس چلتا تھا۔
یہ حالات یوں تو سننے میں قابل رحم معلوم ہوتے ہیں مگر اب پیچھے مڑکر دیکھو تو زندگی کے سب سے زریں عہد لگتے ہیں۔کیونکہ یہی اور ایسے ہی وہ زمانے تھے جب ذہن کا کاروبار چلا۔ورنہ اب پیٹ بھرلو تو نیند آنے لگتی ہے۔سات آٹھ گھنٹے سونے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے ذرا سی نیند اور تھوڑے آرام کی ضرورت ابھی بھی ہے۔بھوک ستائے رہتی تھی نیند چین سب اڑائے رہتی تھی نتیجے میں مطالعہ جاری رہتا۔مولانا اقبال صاحب کی شفقت و محبت بھی کم نہیں ہوئی۔پہلے تو وہ دیکھتے رہے کہ میں کون کون سی کتابیں لے جاتا ہوں۔پھر ایک دن بٹھالیا۔اندازہ نہیں تھا کہ کبھی دو چار جملوں سے زیادہ بات ہوگی مگر اس دن جو بات ہوئی وہ آج بھی ایک دم تازہ ہے۔اتنی تازہ کہ اس کے خیال نے آج سونے نہیں دیا جب کہ نیند رات دس بجے سے ہی آرہی تھی۔آنکھوں آنکھوں میں ہی سحری کا وقت ہوگیا اور ابھی بھی وہی حال ہے۔
رہنے کا حکم تو مسجد میں ملا تھا،
سب یاد ہے مگر سب سے زیادہ آج وہی بات یاد آئی جو مولانا اقبال صاحب نے مجھے روک کر بڑی امیدوں اور شفقت سے کی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ تقویۃ الایمان کو آج کل دیوبندی تبلیغی اپنی کتاب بتاتے ہیں،
رات جب حافظ عبدالحسیب صاحب کا میسج پڑھتے ہوئے آنکھیں بھر آئیں تو مولانا اقبال صاحب کی اس بات نے سونے نہیں دیا۔سحری تک تقویۃ الایمان پر غلام رسول مہراورمولانا ابوالحسن علی ندوی کے مقدمے نیز ابوالحسن زید فاروقی دہلوی کی کتاب ’مولانا اسماعیل دہلوی اور تقویۃ الایمان‘ پڑھتا رہا۔
اللہ رب العالمین مولانا اقبال جامعی صاحب کے نیک اعمال کو قبول فرمائے،






