پچھلے سال چھبیس جولائی کو جب پہلی بار ’حافظ صلاح الدین یوسف: حیات و خدمات‘ کے لیے مضمون لکھنے کی درخواست مولانا رفیق احمد رئیس سلفی صاحب کو بھیجی تھی تو انھوں نے کچھ نئے موضوعات کے علاوہ دو مشورے بھی دیے تھے۔دوسرا مشورہ یہ تھا کہ ’’جن حضرات نے حافظ صلاح الدین یوسف کو برتا ہے اگر ان میں سے کچھ لوگوں کے تاثرات اور مشاہدات قلم بند ہو جاتے تو بہتر ہوگا۔‘‘پوچھنے پر ان ’حضرات‘ کے چار نام بتائے تھے: ’’ڈاکٹر وصی اللہ عباس،
ارادہ یہ ہوا کہ پہلے مقالے لکھوا لیے جائیں پھر ان مشاہیر علماء سے رابطے کیے جائیں۔یہ سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اور اس گفتگو کے پانچویں ہی دن تیس جولائی کو ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی کی وفات ہوگئی۔اللہم اغفر لہ وارحمہ
باقی علماء سے خط و کتابت کی گئی،
شیخ صلاح الدین مقبول-حفظہ اللہ-کی علمی خدمات کے جائزے پر مشتمل ایک کتاب کی ترتیب کا منصوبہ بنایا گیا تو آج سے ٹھیک دو مہینے پہلے بیس فروری کو ایک مضمون کے لیے مولانا عبدالرزاق عبدالغفار سلفی صاحب کو خط لکھا۔مولانا کے جوابی خط میں حوصلہ افزائی کے کلمات کے فورا بعد ہی یہ پیراگراف تھا:
’’میری نظر میں ڈاکٹر وصى الله عباس،
پچھلے مہینے چھبیس مارچ کو صبح صبح جب ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی کی وفات کی خبر ملی تو فورا میں نے یہ خط کھول کر پڑھا،
ابھی ہفتہ بھر پہلے ایک اور کتاب پر کام کرنے کی پلاننگ کی گئی تو ایک موضوع ایسا تھا کہ مولانا خالد حنیف صدیقی صاحب پر نظر ٹھہر گئی۔پہلی بار ان کا نام ابھی جلدی ہی مرشد عبدالقدیر سے سنا تھا،
’’مکرمی
السلام علیکم
حکم نامہ موصول ہوا،
قدرہو گی تم کو میری میرے مر جانے کے بعد
دیر آید درست آید،
ہیچ گہ ذوق طلب از جستجو بازم نہ داشت
دانہ می چیدم دراں روزے کہ خرمن داشتم
والسلام‘‘
(۱۶؍اپریل ۲۰۲۱-صبح پانچ بج کر انچاس منٹ)
کتاب میں مولانا کا یہ خط شامل کرنے کا ارادہ ہوا اور یہ خیال بھی آیا کہ کسی طرح مولانا کو لکھنے کے لیے راضی کریں گے ان شاء اللہ۔
اب نہ یہ خیال کسی کام کا ہے اور نہ ہی یہ ارادہ کہ ان سے بات کی جائے۔اور نہ ہی غلطی سے ان کا کوئی میسج بھی آنے کا امکان ہے جیسا پرسوں آیا تھا۔
وفات کی خبروں کا ایک ڈراونا سلسلہ ہے۔دل میں ایک عجیب سا ڈر بسا رہتا ہے کہ کیا پتہ کس کی خبر آجائے۔کل صبح نو بجے ایک التجا نظر سے گزری کہ ’’اردو ادب کی چار اہم معتبر شخصیات مولا بخش،
مولانا خالد صاحب سے کیا تعلق تھا مگر جب سے خبر ملی ہے عجیب سی کیفیت ہے۔وفات کی خبروں کا ڈر بہت بڑھ گیا ہے۔غموں کا ایک سلسلہ ہے،






