قرآن مجید میں جن پچیس انبیاء کرام کا تذکرہ ہے ان سب کے سوانح نہ قرآن میں دستیاب ہیں اور نہ ہی احادیث میں۔انبیاء دنیا کی سب سے عظیم ہستیاں ہیں اور قرآن قیامت تک کے لیے سب سے عظیم کتاب۔انسان کی مختلف ضروریات میں مناسب اور موزوں رہنمائی انسان کے خالق کو ہی زیبا ہے یا جسے وہ نواز دے۔
انبیاء اور بھی ہوئے ہیں،
اس عبرت اور ضرورت کی تفہیم ہمارے لیے اتنی ہی آسان ہوگی جتنی نسبت اور قربت ہماری اللہ کے کلام اور نبی کے فرمان سے زیادہ ہوگی۔ماضی سبق کے لیے ہے،
ان پچیس نبیوں میں کم ایسے ہیں جن کی زندگی کے کئی گوشے مذکور ہیں۔بلکہ اکثر کے وہی حالات ریکارڈ میں رکھے گئے ہیں جن میں عزیمت کے اعلی مثالی مظاہر ہیں۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابراہیم علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ہے۔سوانح پھر بھی کسی کے نہیں ہیں۔
اس کا شعور ہمیں بھی ہونا چاہیے،
اردو میں یادگار غالب اور حیات سعدی کے بعد حیات جاوید سے باقاعدہ سوانح نگاری کا جو آغاز ہوا تھا وہ اگرچہ عقیدت نامے تک محدود تھا مگر شبلی سے ہوتا ہوا سید سلیمان ندوی تک دراز ہوا تو انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔شبلی نے سیرت النبی،
سوانح میں جزئیات نگاری ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے پل پل کو محفوظ کرنے کی غرض سے شروع ہوئی اگرچہ اس کے کچھ آثار ذرا پہلے سے موجود تھے۔قرآن کی حفاظت کا جو اللہ نے وعدہ کیا ہے اس کی تعبیر و تشریح کے جو قولی،
یہ ذکر سوانحی ہو یا تذکرے کی صورت،
علماء بہت ہوئے ہیں۔جو تذکرے میں ہیں وہ اپنے کارناموں کی وجہ سے۔سوانح ہو یا تذکرہ ان کے حالات لکھنے کے لیے انتخاب بہت ضروری ہے،
مشرقی یوپی کے علماء و اعیان اہل حدیث کی حیات و خدمات کا جو تذکرہ کاروان سلف کے نام سے بزرگ عالم دین مولانا عبدالرؤف خاں ندوی صاحب نے شروع کیا تھا اس سیریز کا حصہ دوم ۲۰۱۴ میں شائع ہوا تھا۔
مشرقی یوپی میں دراصل الہ آباد،
یوں تو مولانا موصوف کی تصنیفات و تالیفات کی تعداد ایک درجن سے زائد ہے جن میں سے کئی کتابوں کے ایک سے زیادہ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں مگر کاروان سلف سے مولانا کو مقبولیت زیادہ ملی۔حصہ اول ۲۰۱۳ میں چھپا تھا،
۴۸۰ صفحات پر مشتمل اس حصے کا انتساب مخلص داعیوں کے نام ہے۔انتساب کا پہلا جملہ ’رہے‘ اور ’کرگئے‘ پر ختم ہوا ہے اس اعتبار سے ’جنھوں نے‘ سے شروعات غلط ہے’جو‘ ہونا چاہیے تھا۔
کاروان سلف جیسے کام کی ضرورت کا احساس مولانا کے یہاں بہت شدید ہے۔حرفے چند میں ص۱۰ پر لکھتے ہیں:
’’ہماری جماعت کے اپنے افراد تاریخ اہل حدیث سے متعلق زیادہ معلومات نہیں رکھتے اور نہ علمائے اہل حدیث کی ہمہ جہت خدمات،
اس کا مقصد بھی بہت واضح ہے۔فرماتے ہیں:
’’اس کتاب سے آپ کو اپنے اسلاف کرام کی غیرت دینی حمیت اسلامی اور اپنے صحیح عقائد سے گہری وابستگی کی جانکاری ہوگی۔۔۔۔۔۔اس کتاب کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی کے لیے سامان شہرت فراہم کیا جائے یا محض تاریخ نویسی کی جائے۔‘‘(ص۱۵)
حصہ اول کے برخلاف اس حصے (دوم) میں’مندرجات کتاب کی ترتیب میں شخصیات کی تاریخ وفات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔‘(ص۱۷)
جناب مولانا رفیق احمد رئیس سلفی حفظہ اللہ نے اپنے مقدمے(ص۱۹تا۳۲) میں ہندوستان میں سلفی تحریک کی تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے کئی پہلوؤں پر بڑی اہم اور مفید باتیں لکھی ہیں۔
مولانا ظہیر احمد صدیقی ندوی کی تاثراتی تحریر ’برصغیر میں علمائے اہل حدیث کی مساعی جمیلہ‘ (ص۳۳تا۳۵)تقریظ جیسی ہے۔
شیخ عتیق الرحمن ندوی کا مضمون ’ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما‘ (ص۳۶تا۳۸)مقدمہ ٹائپ ہے۔مختصر ہے مگر جامع۔
ڈاکٹر عین الحق قاسمی نے اپنے مکتوب ’رجال اہل حدیث کا ایک وقیع مرقع‘ (ص۳۹تا۴۰) میں حصہ اول کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور حصہ دوم کے لیے دعا کی ہے۔
ص۴۱ سے مشرقی یوپی کی مختلف شخصیات پر مضامین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو ۴۶۶ پر جاکر ختم ہوتا ہے۔ان ۴۲۶ صفحات میں کل ۶۱ مرحومین کے حالات درج ہیں۔
سب سے زیادہ مضامین خود مولانا عبدالرؤف خاں ندوی صاحب کے ہیں،
علماء میں:
۱۔مولانا عبدالعظیم بستوی اکرہرا (ص۱۲۰تا۱۲۲)
۲۔مولانا سید اقبال حسین ریواں (ص۱۳۹تا۱۴۰)
۳۔مولانا صبغت اللہ ندوی ٹیسم (ص۲۴۵تا۲۴۸)
۴۔مولانا عبدالشکور رحمانی اکرہرا (ص۲۷۲تا۲۷۴)
۵۔مولانا محمد امین اثری مبارکپوری (ص۲۷۸تا۲۷۹)
۶۔مولانا قطب اللہ ندوی رحمانی ملگہیا (ص۲۹۱تا۲۹۲)
۷۔مولانا عبدالرحمن رحمانی تھارو بھوجپور (ص۳۱۵تا۳۱۹)
۸۔مولانا عزیز احمد ندوی علی گنج بونڈیہار (ص۳۲۰تا۳۲۱)
۹۔مولانا محمد عمر سلفی (ص۳۳۷تا۳۳۹)
۱۰۔فضا ابن فیضی (ص۳۵۲تا۳۵۷)
۱۱۔علامہ عبدالحمید رحمانی (ص۴۲۶تا۴۳۲)
۱۲۔علامہ عبدالسلام رحمانی کنڈوو بونڈیہار (ص۴۴۶تا۴۵۶)
اور دیگر شخصیات میں:
۱۔حاجی عبدالقیوم پنچ بھجوا کلاں (ص۶۱تا۶۵)
۲۔چودھری محمد یاسین بسنت پور (ص۱۶۶تا۱۷۰)
۳۔حاجی اشفاق احمد وزیری ایڈوکیٹ بھدوہی (ص۳۲۹تا۳۳۱)
۴۔حاجی مشتاق احمد انصاری (ص۳۵۸تا۳۶۴)
۵۔ماسٹر مقصود احمد تنہا انقلابی دیالی پور (ص۳۶۵تا۳۶۷)
۶۔حاجی شفیع اللہ خاں کٹیا بھاری (ص۴۰۲تا۴۰۷)
۷۔حاجی عبدالرشید (ظہیر خاں) بجوا کلاں (ص۴۲۰تا۴۲۵)
۸۔بابو فصیح الدین خاں گینسڑی (ص۴۵۷تا۴۶۶)
تین لوگوں کے تین تین مضامین ہیں،
بھٹی صاحب کے مضامین میں:
۱۔شمس العلماء مولانا حفیظ اللہ اعظمی (ص۵۰تا۵۵)
۲۔مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی (ص۵۹تا۶۰)
۳۔شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام بستوی (ص۱۰۶تا۱۱۳)
یونس مدنی صاحب کے:
۱۔علامہ عبدالمتین بنارسی (ص۶۶تا۷۴)
۲۔قاری حافظ مولانا عبدالرحمن بنارسی (ص۱۸۸تا۱۹۱)
۳۔حافظ محمد عباس بنارسی (ص۲۷۵تا۲۷۷)
اور خورشید سلفی صاحب کے مضامین میں:
۱۔مولانا حافظ نذیر احمد بستوی و قنوجی (ص۲۳۳تا۲۴۰)
۲۔مولانا سلیم الدین مدنی (ص۳۸۳تا۳۹۰)
۳۔مولانا عبدالمجید مدنی (ص۴۳۳تا۴۴۵)
شامل ہیں۔
چارلوگوں کے دو دو مضامین ہیں۔اسی طرح دو کتابوں سے بھی دو دو مضامین ماخوذ ہیں۔
’علمائے اہل حدیث بستی و گونڈہ‘ سے دو مضامین:
۱۔مناظر اسلام مولانا عبدالرحمن ڈوکمی (ص۵۶تا۵۸)
۲۔مولانا زین اللہ گونڈوی (ص۱۱۴تا۱۱۵)
لیے گئے ہیں۔پہلے مضمون کے آخر میں ص۵۸ پر بین القوسین ’بحوالہ علماء اہل حدیث بستی و گونڈہ‘ لکھا ہے اور دوسرے مضمون میں آخر میں ہی نمبر(۲) لگاکر نیچے حاشیے میں ’علمائے اہل حدیث بستی و گونڈہ ص:۱۳۱‘ درج ہے۔دونوں جگہ حوالہ لکھنے کا طرز اگرچہ جدا جدا ہے مگر مضمون اخذ کرنے کا منہج ایک ہی ہے۔جگہ جگہ الفاظ و تعبیرات میں تبدیلی ہے،
’’حدیث پر گہری نظر تھی۔تقریر نہایت صاف شستہ اور مؤثر ہوتی تھی۔قوت گویائی،
’’حدیث پر گہری نظر تھی تقریر نہایت صاف اور دل پذیر اور مؤثر ہوتی تھی قوت گویائی زبان میں سلاست و روانی،
الفاظ و تعبیرات کی تبدیلی اور حذف و اضافے کی مثالیں اس چھوٹے سے اقتباس میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔’علمائے اہل حدیث بستی و گونڈہ‘ کے حوالے سے نقل کیے گئے دونوں مضامین کے ساتھ یہی معاملہ کیا گیا ہے۔
’علمائے اہل حدیث بستی و گونڈہ‘ مولانا بدرالزماں نیپالی کی تصنیف ہے۔میرے پاس اس کتاب کی پی ڈی ایف کاپی ہے۔۹۹ علماء کرام کے تذکروں پر مشتمل ۱۶۰ صفحات کی یہ کتاب ۱۹۹۰میں ندوۃ المحدثین گوجرانوالہ سے ۱۰۰۰ کی تعداد میں شائع ہوئی تھی۔سرورق دیدہ زیب ہے،
’’کتاب کی ترتیب ۱۹۷۶ میں شروع کی گئی تھی اور ۱۹۸۳ میں مکمل کرکے چھاپنے کے لیے بعض ناشرین کے حوالہ بھی کردی گئی تھی مگر اس کے چھپنے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا اس لیے مزید تاخیر ہوئی۔‘‘(علمائے اہل حدیث بستی و گونڈہ: ص۱۰-۱۱)
اس کتاب کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ کاروان سلف جس سمت میں یکسوئی سے عبارت ہے اس کی خشت اول یہی ہے۔جتنا مواد ہے اسی قدر الفاظ خرچ کیے گئے ہیں۔ننھے منے جملوں میں سادہ اور سلیس زبان میں علماء کے حالات لکھے گئے ہیں۔عنوان میں نام کے ساتھ مزید شناخت کے طور پر گاؤں یا شہر کا نام ذکر ہے۔کہیں کہیں ذیلی عنوان میں حوالے اور روایتوں کی صراحت بھی ہے۔
محدثین کے منہج کی پیروی کرتے ہوئے مولانا نیپالی نے صاحب تذکرہ کے صرف وہی حالات نہیں درج کیے ہیں جنھیں خوبیاں کہا جاتا ہے،
دوسری بات یہ ہے کہ ترتیب و تدوین کے وقت کسی اور کے متن کے ساتھ یہ چھیڑ چھاڑ مناسب نہیں ہے۔یا تو دوسرے مآخذ کے حوالے سے نئے سرے سے تمام معلومات اپنے الفاظ میں لکھی جائیں یا پھر اقتباس من و عن نقل کیا جائے۔روایت یا ماخذ ایک ہی ہو،
دو ہی طریقے سے ایسی باتیں روایت کی جانی چاہییں۔راوی اگر خود مشاہد ہے تو ویسا بیان کرے جیسا نے اس نے دیکھا ہے یا پھر کسی نے سنا ہے یا کہیں پڑھا ہے تو اس سند یا حوالے سے نقل کرے۔نقل کرنے کی صورت میں وہ کسی بھی تبدیلی کا مجاز نہیں ہوگا۔
دوسری کتاب جس سے دو مضامین:
۱۔مولانا سید ممتاز علی کرتھی ڈیہہ (ص۹۷تا۱۰۵)
۲۔حکیم جمیل احمد اٹوا بازار (ص۱۱۶تا۱۱۹)
مولانا ندوی نے نقل کیے ہیں وہ ہے تذکرہ علماء سلف(بستی،
مولانا محفوظ الرحمن فیضی صاحب کے بھی دو مضامین شامل ہیں:
۱۔مولانا محمد احمد ناظم مئوی (ص۱۳۱تا۱۳۸)
۲۔مولانا مفتی حبیب الرحمن فیضی مئوی (ص۲۴۱تا۲۴۴)
یہ مضامین لکھوائے گئے ہیں یا کسی کتاب یا رسالے سے ماخوذ ہیں اس کا کوئی ذکر مضمون کے آخر میں نہیں ہے۔ان مضامین پر نوٹ بھی نہیں ہے۔
دو مضامین مولانا محمد مستقیم سلفی صاحب کے بھی ہیں:
۱۔مولانا محمد یوسف رحمانی بہرائچی (ص۲۱۵تا۲۱۹)
۲۔مولانا امر اللہ عارف سراجی (ص۲۹۹تا۳۰۷)
پہلے مضمون کے ماخذ کا ذکر نہیں ہے اور دوسرا مضمون ماہ نامہ محدث بنارس ستمبر۲۰۰۲ سے ماخوذ ہے۔
مولانا ابوالعاص وحیدی صاحب کے بھی دو مضامین ہیں:
۱۔مولانا زین اللہ رحمانی طیبی (ص۲۲۰تا۲۳۲)
۲۔مولانا عابد علی مدنی کواپور (ص۴۱۷تا۴۱۸)
پہلے مضمون پر مولانا ندوی صاحب کا نوٹ بھی ہے جس میں ان کی شخصیت اور اولاد کا تذکرہ ہے۔وحیدی صاحب کا یہ مضمون بہت شاندار ہے۔مولانا زین اللہ سے تعلق خاطر کا یہ مرقع دلی کیفیات اور وقیع معلومات سے بھرپور ہے۔پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے وحیدی صاحب سنارہے ہیں۔ان کا مخصوص لب و لہجہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس مضمون میں جلوہ گر ہے۔زبان تحریری اور عالمانہ ہے مگر سلاست و روانی ایسی جیسے کوئی گفتگو کررہا ہو۔باتوں میں کوئی الجھاؤ نہیں ہے،
کاش وحیدی صاحب ایسی تمام شخصیات پر جنھیں اتنے قریب سے دیکھا ہے تذکرے لکھ دیں تو یہ ایک بڑا کام ہوجائے گا۔علماء اور طلبہ دونوں برابر مستفید ہوں گے۔تذکرہ نگاری کا سلیقہ بھی پروان چڑھے گا اور اس باب میں دلچسپی رکھنے والوں کی رہنمائی بھی ہوگی۔
البتہ دوسرے مضمون میں دلی جذبات کی ایسی شدت نہیں ہے۔اس کا طرز مولانا بدرالزماں نیپالی صاحب (علمائے اہل حدیث بستی وگونڈہ) کے طرز سے ملتا جلتا ہے۔سوانحی حالات ایک ترتیب سے بیان کردیے گئے ہیں۔آخری پیراگراف میں اگر وحیدی صاحب یہ نہیں کہتے کہ ان سے میرے اچھے تعلقات تھے تو اندازہ بھی نہیں ہوپاتا کہ آس پاس ہی رہنے والے مولانا عابد علی مدنی صاحب سے قریب کا فاصلہ کبھی ختم بھی ہوا ہوگا۔
دونوں مضامین کے امپیکٹ میں بڑا فرق ہے۔دوسرا مضمون جیسا ہے ویسا کوئی دوسرا بھی لکھ سکتا ہے،
مولانا شہاب الدین مدنی صاحب کے بھی دو مضامین ہیں:
۱۔مولانا عبدالرزاق صدیقی بیت نار (ص۲۸۴تا۲۹۰)
۲۔مولانا محی الدین ندوی تلسی پور (ص۳۳۲تا۳۳۶)
مولانا مدنی کا مختصر سوانح نگاری کا ٹیپیکل انداز ہے۔نام و نسب کی ذیلی سرخی سے شروع کرکے وفات پر ختم کرتے ہیں۔جس باب میں جتنا مٹیریل ہے اتنا ہی اسپیس لیتے ہیں اور لینیر فارمیٹ میں سوانحی حالات ایک ترتیب میں پیش کردیتے ہیں۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ زیر تذکرہ شخصیت کا امتیازی وصف نمایاں کردیتے ہیں جیسے اپنے دادا محترم مولانا عبدالرزاق صدیقی کی مناظرانہ صلاحیت اور مولانا محی الدین ندوی کی انتظامی لیاقت۔
اٹھارہ لوگ ایسے ہیں جن کے ایک ایک مضامین شامل کتاب ہیں۔یہ مضامین تین قسم کے ہیں۔
پہلی قسم میں ایک مضمون ہے مولاناعتیق الرحمن ندوی صاحب کا،
حاجی عبدا لغفور دریابادی (ص۱۲۳تا۱۳۰)
دوسری قسم میں ۸ مضامین ہیں،
(۱)خالد حنیف صدیقی فلاحی نے ’مولانا محمد حنیف ہاتف بیت نار‘(ص۱۴۱تا۱۵۱)
(۲)ارشد علی انصاری اعظمی نے ’مولانا ابوعلی اثری اعظمی‘(ص۱۷۱تا۱۷۶)
(۳)سراج طالب نے ’محمد طالب تلسی پور‘(ص۲۸۰تا۲۸۳)
(۴)ڈاکٹر شمس الدین نے ’مولانا صلاح الدین نوری بہرائچی(ص۲۹۳تا۲۹۸)
(۵)ڈاکٹر عبدالحمید خاں نے ’حکیم عبید اللہ رحمانی رائے بریلوی‘(ص۳۰۸تا۳۱۴)
(۶)مولانا ظہیر احمد رحمانی نے ’مولانا محمد خلیل رحمانی‘(ص۳۴۰تا۳۵۱)
(۷)ڈاکٹر عبدالرشید سلفی شنکر نگر نے ’ماسٹر محمد اسماعیل انصاری‘(ص۳۹۷تا۴۰۱)
(۸)سہیل انجم نے ’ڈاکٹر حامد الانصاری انجم‘(ص۴۰۸تا۴۱۶)
جیسے مضامین اپنے والد کے حالات وکوائف پر مشتمل لکھے ہیں۔
تیسری قسم میں نو مضامین ہیں:
۱۔مولانا عبدالحلیم شرر لکھنوی (ص۴۱تا۴۹)
از: مولانا ابوعلی اثری
۲۔ادیب العصر علامہ عبدالمجید الحریری بنارسی(ص۷۹تا۹۶)
از: مولانا عبدالوحید رحمانی (ماہ نامہ صوت الجامعہ بنارس:۳؍اگست۱۹۷۵)
۳۔پروفیسر قمر حسین فاروقی(ص۱۵۲تا۱۶۵)
از: مولانا رفیق احمد رئیس سلفی
۴۔محمد صغیر سالار تلسی پور (ص۱۷۷تا۱۸۷)
از: ڈاکٹر محمد غالب
۵۔مولانا قاری عبدالمنان اثری شنکرنگری(ص۱۹۲تا۲۱۴)
از: مولانا عبدالرزاق عبدالغفار سلفی
۶۔مولانا عبدالمعبود فیضی کنڈو (ص۲۶۸تا۲۷۱)
از: مولانا شوکت علی قاسمی
۷۔مولانا شکراللہ فیضی ٹکریاوی (ص۳۲۲تا۳۲۸)
از: مولانا عبدالحمید فیضی
۸۔مولانا سیدتجمل حسین منگل پوری مہراج گنج(ص۳۶۸تا۳۸۲)
از:مولانا عبداللہ عباس سلفی
۹۔ڈاکٹرمحمد یونس ارشد بلرامپوری(ص۳۹۱تا۳۹۶)
از:ڈاکٹرعبدالدیان انصاری
ایک خودنوشت بھی ہے:
مولانا عبدالشکور دور صدیقی بیت نار(ص۲۴۹تا۲۶۷)
خودنوشت اور ہونی چاہیے۔مولانا ندوی صاحب نے اس پر دو صفحےکا ایک اچھا نوٹ بھی لکھا ہے جس میں مولانا عبدالشکور کے امتیازات نیز اپنے تعلقات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔نوٹ میں ایک جگہ ’کے ایک زریں کڑی‘ہے۔یہاں ’کے‘ نہیں ’کی‘ ہونا چاہیے تھا۔ممکن ہے یہ پروف کی غلطی ہو۔
ایک مضمون ’الاعتصام‘(۱۵؍جنوری۱۹۷۱) سے نقل کیا گیا ہے:
مولانا سید ابوالخیربرق حسنی لکھنوی(ص۷۵تا۷۸)
اس پر کوئی نوٹ نہیں ہے۔نہ ہی اس مضمون کے لکھنے والے کا نام ہے۔البتہ مولانا ندوی کے حواشی میں کچھ سوانحی معلومات درج ہیں۔
کاروان سلف حصہ اول کی طرح یہ حصہ دوم بھی اسٹاک میں نہیں ہے،






