کچھ خبریں غیر متوقع نہیں ہوتیں پھر بھی سینہ چیر کر رکھ دیتی ہیں۔زخم نہ معلوم پڑتا ہے نہ ہی دکھائی دیتا ہے مگر درد جو محسوس ہوتا ہے وہ آسانی سے گزر جانے والا نہیں لگتا۔لگتا ہے سینے میں کوئی پارٹ ایسا ہے جو مسلسل مروڑا جارہا ہے۔یہ کیفیت خبر ملنے کے بعد ہوئی ہے۔
عید الاضحٰی کی وجہ سے نیند اور تھکان ایک ساتھ اس قدر جمع تھے کہ فرصت ملنے کی دیر تھی۔ملی بھی تو دیر رات ایک بجے تک عجیب سی بے چینی تھی۔پھر پتہ نہیں کب نیند آئی صبح آنکھ کھلی تو کھڑکی سے چھن کر آنے والے اجالے نے نیند اڑا دی۔جاگنے کا وقت بھی گزر چکا تھا۔فون پر وقت دیکھنے میں وفات کی خبر پر نظر پڑی تب سے ہے وہ درد۔شیخ کی وفات رات ایک بج کر بیس منٹ پر ہوئی تھی۔
جماعت میں شیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ جیسے غیور و جاں باز داعی کی کمی ایک زمانے تک محسوس ہوگی۔
شیخ مقیم صاحب کو دور سے دیکھنے سے لے کر قریب بیٹھنے تک کا میرا سفر بڑا خوشگوار رہا۔دن بدن ان کی عظمت دل میں بیٹھتی اور بڑھتی ہی چلی گئی تھی۔
جامعہ رحمانیہ میں جب وہ اونچی کلاسوں میں پڑھاتے تھے تو ہم انھیں آتے جاتے دیکھا کرتے تھے۔گلشن نگر جوگیشوری کی اس پتلی سڑک پر جہاں ہم کچھ طلبہ ایک کونے میں کھڑے ہوکر ان کا خطاب سن رہے تھے کسی طرف سے وہ پتھر آیا تھا جس نے انھیں گرجنے پر مجبور کردیا تھا: "سینے میں بال ہیں تو سامنے آؤ..." اس رات جلسہ ختم ہونے کے بعد پتہ چلا کہ بسیں بند ہوچکی ہیں،
فری لانسر کا اجراء ہوا تو انہی دنوں مرکزی جمعیت سے شیخ ممبئی تشریف لائے ہوئے تھے۔میں اور ابن کلیم صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی آفس کرلا (فوزیہ ہاسپٹل کے سامنے) ان سے ملے،
پھر اللہ نے سبیل پیدا کی اور گذشتہ دو سالوں سے ہر ہفتے کم از کم تین بار ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی آفس کرلا (کنکیا زلین کے سامنے) میں استفادے کا مسلسل موقع ملتا رہا۔اسی دوران وہ علیل ہوئے۔ایک بار میں نے خیریت پوچھی تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے: جو ہے وہ ہے اب کیا کریں گے۔ماتھے پر کوئی شکن نہیں،
بلا کی ہمت تھی،
آپریشن کے لیے سیفی ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا جاچکا تھا۔آپریشن سے ٹھیک ایک دن پہلے میں نے انھیں سوال بھیج دیا،
اللہ انھیں جنت دے۔آمین





