جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تعلیم ہورہی ہے

تحریر: ابوالمیزان2 اپریل، 20201,876قارئین5 تبصرےمطالعے کا وقت: ۴ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

اظہار کا سلیقہ ہو تو مسلسل مشق سے اچھی صلاحیت بننے میں دیر نہیں لگتی۔اشاعت کے وسائل تو مفت میں سب کو دستیاب ہی ہیں۔ایک ہی شعور مہنگا ہے جو کبھی سستا نہیں ہوسکتا۔

کانوں اور آنکھوں کو سماعت اور بصارت کے لیے ہمیشہ منظوری بھی نہیں دینی پڑتی۔جو پسند نہیں وہ آوازیں بھی کانوں پڑسکتی ہیں اور کریہہ منظر بھی ویژول پولیوشن کا سبب بن سکتے ہیں اگرچہ ایک نظر پڑتے ہی آپ آنکھیں پھیر لیں۔اللہ کی یہ دونوں نعمتیں جتنے مشاہدے دل و دماغ کو پاس آن کرتی ہیں وہ سب فلٹر کیے بنا استعمال کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔تمام علوم و مشاہدات کی بنا پر کیا اور کب بولنا یا لکھنا ہے،اسی کا شعور مہنگا ہوتا ہے۔

معاملہ کیسا بھی ہو سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔اس سچ کو دیکھنے کے زاویے ہزار ہوتے ہیں۔ہر زاویے سے فرق بھی نہیں پڑتا ہے۔جتنے زیادہ زاویے اظہار بنتے ہیں اسی قدر سچ کو ڈیل کرنے کے اصولوں پر ضرب پڑتی ہے۔جرم ہو یا حادثہ،متعلقہ مقام کا طرز تفتیش ثبوتوں کی بنیاد پر ایک حتمی فیصلے کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔اس پروسیس میں حصہ لینا ایک بات ہے اور غیر متعلق افراد کا آدھی ادھوری معلومات کی بنیاد پر اپنے زاویے کا اظہار کرنا دوسری بات۔

انصاف کی بات کرنے کے لیے صرف اظہار کی صلاحیت کافی نہیں ہے،فریقین کے بیانات اور ثبوتوں کی پڑتال بھی ضروری ہے۔مشاہدے پر کنٹرول کرنا مشکل ہے،ٹی وی اور اخبار کے بنا جینے والے بھی بریکنگ نیوز کی مار سے نہیں بچ پاتے۔سنجیدہ افراد جو اپنے ہی کئی معاملات کو کل پرسوں کے لیے اٹھا رکھتے ہیں وہ بھی ایسی خبروں کو کھانے پینے پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔اظہار کا سلیقہ نہ ہو تو اپنے ہم خیال افراد کی کاوشیں شیئر کرنے سے باز نہیں آتے۔

اپنا زاویہ ہر کسی کو عزیز ہوتا ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے اس کا مخالف اپنا زاویہ پیش نہ کرے۔محض ایک دلچسپی جب یہاں تک لے آتی ہے تو وہ اپنے خیال کو ہولڈ پر کیوں رکھے گا جس کا کاروبار ہی ثالثی ہے۔میڈیا کی روزی روٹی ہی بریکنگ نیوز کی عمر پر چلتی ہے۔پیٹ کا مسئلہ تو پھر بھی بڑا ہے،یہاں لوگ اپنے دل اور دماغ میں جھوٹی تسلی کی بیماریاں پال کر رکھتے ہیں اور اس کا انحصار بھی بریکنگ نیوز کی مینوفیکچرنگ پر ہوتا ہے۔

انصاف کا‌ مادہ آسمان سے نہیں برستا ہے،نیک اعمال کی پریکٹس سے کمانا پڑتا ہے۔فرد ہو یا سماج دونوں کے لیے ایک ہی اصول ہے۔ظلم وہی نہیں ہوتا جو آپ پر ہوتا ہے ظلم وہ بھی ہوسکتا ہے جو آپ سے ہوتا ہے۔آپ دوسروں کے ساتھ جو ہوشیاری کرتے ہیں وہی آپ کے ساتھ ہوجائے تو ظلم لگنے لگتا ہے۔خیرخواہی اور ظلم کے درمیان فرق سمجھنے کے لیے انصاف ضروری ہے اور انصاف کی توفیق پانے کے لیے ذاتی مفاد سے بالاتر ہونے کا بھسوٹ ہونا چاہیے۔

ہمارے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تو تمام مذہبی عبادت گاہوں میں داخلے پر بھی پابندی لگادی گئی۔پارکنگ ایریا میں ایک جگہ کو نماز باجماعت کے لیے خاص کیا گیا تو سوسائٹی اراکین نے ایکشن لیا۔پھر جمعہ کا قیام اپنے فلور پر پیسج میں کرادیا۔سات مالے کی اس بلڈنگ میں چار ونگ ہیں۔اے ونگ میں ایک فلور پر چھ فلیٹ ہیں۔

جب اس پر بھی اعتراض کیا گیا تو آج دوسرا دن ہے وہ حضرت مغرب بعد پھر آئے تھے بلانے: " بھائی چلو،گھر پر تعلیم ہورہی ہے!"۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (5)

س
سلمان ابوصالح
25 ستمبر، 2022
ایسی تحاریر بہت کم دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہیں
ر
رشید سمیع سلفی
4 اپریل، 2020
ایک ایک جملہ معنی خیزی اور گہرائی لئے ہوتا ہے،پوری تحریر اشاروں کی زبان لئےہوتی ہے لیکن مطلوب کے اردگرد گھومتی ہے،لفظوں سے ایسے کھیلتے ہیں جیسے کوئی ماہر سرکس کھلاڑی گیند سے کھیل رہا ہو،کویی کوئی لفظ تو گدگدی لگاکر لوٹ پوٹ کر جاتا ہے،جیسے لفظ "بھسوٹ"ہے۔ پڑھتے ہوئے اگر غور سے کام نہ لیا جائے تو بہت کچھ رہ جاتا ہے،الفاظ اور جملوں کے محیط میں بعض خطے نظر سے اوجھل ہوجاتے ہیں،اسلئے ابو المیزان سرسری پڑھنے کی چیز نہیں ہیں بلکہ تمام تر حسیات کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے،بس قدم قدم پرغور کیجئے اور عجائب ولطائف سے شادکام ہوئیے۔
ر
ریاض الدین شاہد
3 اپریل، 2020
اچھی تحریر ہے جو بہت کم دیکھنے و پڑھنے کو ملتی ہے
و
وسیم المحمدی
3 اپریل، 2020
ایسی تحریریں بہت کم پڑھنے کو ملتی ہیں۔ لکھتے تو بہت لوگ ہیں، مگر ابو المیزان کی تحریروں کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ ابو المیزان کی تحریریں ایسی فکری اور عام شعور سے ٹیچ ہوتی ہیں کہ قاری پڑھتے جاتا ہے اور کہتے جاتا ہے: میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ زبان ایسی پرفیکٹ اور سلاست سے بھرپور ہوتی ہے کہ رشک آئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ابو المیزان اس میدان میں استاذ کا درجہ رکھتے ہیں!
ص
صدیقی عبدالقدوس
3 اپریل، 2020
بہترین تعلیم کیجیے. آپ کے ہاں تعلیم نہیں ہوتی؟ تعلیم تعلیم اور اس طرح کے بہت سے الفاظ ہے جس نے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنا کر رکھ دیا ہے.ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے باضابطہ اس رکھ پر ڈال دیا ہے!جیسے اسٹیج پر ڈرامہ ہوتا ہے کوئی بادشاہ ہے کو کچھ کوئی کچھ اور جیسے پوری سلطنت قائم ہے اور اس کا نظام چل رہا. اسٹیج سے اتر کر ہر آدمی جو وہاں جو تھا وہاں جو اس کی باتیں اور حرکات و سکنات تھیں سب غائب رہتی ہیں. بس یہی ہے کہ تعلیم ہو رہی ہے. تعلیم کا جنازہ جیسے نکل گیا ہو.

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وفا

کوئی حسن ظن انتہائی خوشگوار حقیقت میں تبدیل ہوجائے تو صرف حیرت ہی نہیں ہوتی، بڑی مسرت بھی ہوتی ہے۔ وہ گھڑی بھی ایسی تھی کہ آنسو چھلک پڑے، خوشی کے آنسو۔حقیقت کے مشاہدے میں ذرا سا وقت گزرا تھا کہ اس کوالٹی کی تصدیق بھی ہوگئی جس کے بغیر کوئی تعلق نہیں سنبھلتا۔ پیچھے […]

منظر نما
1,51826 جنوری، 2025
تعلیم ہورہی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر