اظہار کا سلیقہ ہو تو مسلسل مشق سے اچھی صلاحیت بننے میں دیر نہیں لگتی۔اشاعت کے وسائل تو مفت میں سب کو دستیاب ہی ہیں۔ایک ہی شعور مہنگا ہے جو کبھی سستا نہیں ہوسکتا۔
کانوں اور آنکھوں کو سماعت اور بصارت کے لیے ہمیشہ منظوری بھی نہیں دینی پڑتی۔جو پسند نہیں وہ آوازیں بھی کانوں پڑسکتی ہیں اور کریہہ منظر بھی ویژول پولیوشن کا سبب بن سکتے ہیں اگرچہ ایک نظر پڑتے ہی آپ آنکھیں پھیر لیں۔اللہ کی یہ دونوں نعمتیں جتنے مشاہدے دل و دماغ کو پاس آن کرتی ہیں وہ سب فلٹر کیے بنا استعمال کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔تمام علوم و مشاہدات کی بنا پر کیا اور کب بولنا یا لکھنا ہے،
معاملہ کیسا بھی ہو سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔اس سچ کو دیکھنے کے زاویے ہزار ہوتے ہیں۔ہر زاویے سے فرق بھی نہیں پڑتا ہے۔جتنے زیادہ زاویے اظہار بنتے ہیں اسی قدر سچ کو ڈیل کرنے کے اصولوں پر ضرب پڑتی ہے۔جرم ہو یا حادثہ،
انصاف کی بات کرنے کے لیے صرف اظہار کی صلاحیت کافی نہیں ہے،
اپنا زاویہ ہر کسی کو عزیز ہوتا ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے اس کا مخالف اپنا زاویہ پیش نہ کرے۔محض ایک دلچسپی جب یہاں تک لے آتی ہے تو وہ اپنے خیال کو ہولڈ پر کیوں رکھے گا جس کا کاروبار ہی ثالثی ہے۔میڈیا کی روزی روٹی ہی بریکنگ نیوز کی عمر پر چلتی ہے۔پیٹ کا مسئلہ تو پھر بھی بڑا ہے،
انصاف کا مادہ آسمان سے نہیں برستا ہے،
ہمارے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تو تمام مذہبی عبادت گاہوں میں داخلے پر بھی پابندی لگادی گئی۔پارکنگ ایریا میں ایک جگہ کو نماز باجماعت کے لیے خاص کیا گیا تو سوسائٹی اراکین نے ایکشن لیا۔پھر جمعہ کا قیام اپنے فلور پر پیسج میں کرادیا۔سات مالے کی اس بلڈنگ میں چار ونگ ہیں۔اے ونگ میں ایک فلور پر چھ فلیٹ ہیں۔
جب اس پر بھی اعتراض کیا گیا تو آج دوسرا دن ہے وہ حضرت مغرب بعد پھر آئے تھے بلانے: " بھائی چلو،





