بڑے سائز کا ایک جھولا ایسا بھی ہوتا ہے جسے ہمارے یہاں "دھوکری" کہتے ہیں۔ایسی دھوکریاں لیے پھرنے والے بہت سارے "بابا" دیکھے ہیں ہم نے۔بڑے بوڑھے ہم بچوں سے کہتے تھے سیوان میں نہ پھرا کرو "دھوکرکاس" پکڑ لے جائے گا۔دور سے بہت سارے لوگوں پر دھوکرکاس کا گمان ہوا بھی تھا مگر اب سوچو تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ سب منگن بابا ہی تھے،
کہیں بھی پل بننا شروع ہوتا تو ایسا محسوس ہوتا جیسے سارے والدین اپنے بچوں کے لیے اچانک فکرمند ہوگئے ہیں۔اور اگر پل بنتے بنتے یا بننے کے بعد کہیں ٹوٹ جاتا تو ہراس اور بڑھ جاتا۔
دیکھا نہیں کبھی کچھ،
جھولا اٹھاکر چل دینے کی بات کی ہے بس،
فرق صرف اتنا ہے کہ وہ دھوکرکاس پل بنوایا کرتا تھا اور یہ راشٹر بنوارہا ہے۔پل کے لیے بچوں کی بلی کی ضرورت ہوتی تھی اور اب یہاں راشٹر کے لیے پچھڑوں،
دھوکرکاس کا اپنا کرم کال ہے،
ورنہ وراثت کی منتقلی بھی اللہ کا ایک قانون ہے۔ہمارے خزانے کی ملکیت دوسری قوم کو ٹرانسفر بھی ہوسکتی ہے اور ہمارا محل کسی کا مدفن بھی بن سکتا ہے۔
دھوکرکاس کسی دوسرے دیس چلاگیا یا ہم نے ہجرت کرلی یا تربیت کی وہ بنیادیں اکھڑ گئیں یا بچے ہی اب چتر نڈر پیدا ہونے لگے اللہ جانے کیا بات ہے دھوکرکاس نہیں رہا اب۔عمر ہوتی ہے ہر چیز کی،





