تاریخ دو طرح سے یاد رکھی جاتی ہے۔اور وہی دونوں طور طرز فکر اور رنگ عمل درشاتے ہیں۔اور انہی دونوں باتوں سے متعلقہ قوم کی دشا اور دشا معلوم ہوتی ہے۔
تاریخ ریفرینس کے لیے ہو تو صحت کی علامت ہے اور اگر اس کی حیثیت صرف بیانیے کی ہوجائے تو بیماری ہے۔ایسا اتیت جس کے دردانگیز بیان میں چاشنی ملے وہ یا تو فیبریکیٹیڈ ہے یا پھر آلہ سماعت میں ہی کوئی خرابی ہوگی۔
جس کے باپ دادا پھٹے حال ہوں اس کا بچپن بھی سنجیدگی کا شکار ہوجاتا ہے،
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران:140)
یہ عمومی صورت حال ہے مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ نوح علیہ السلام کے گھر کنعان پیدا ہو اور ابراہیم علیہ السلام آزر کے یہاں جنم لیں۔پوروائی اور پچھوا ہی نہیں چلتی ہیں ہوائیں۔ہوا کبھی اتر اور کبھی دکھن سے بھی چلتی ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے یہاں یوسف علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں اور زکریا علیہ السلام کے گھر یحییٰ علیہ السلام۔
فکر و نظر اور ایمان و عمل کی بات ہے کہ دن رات کیسے گزریں گے اور کیریکٹر کیسا ڈیولپ ہوگا۔
اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا (الدھر:3)
ہر سوچ،
بچے تو بڑوں کو دیکھ دیکھ کر سیکھتے ہیں اور جوان بوڑھوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔لال خون کی بھی ایک ویلیڈٹی ہوتی ہے،
اتیت عبرت ہو چاشنی نہیں،





