جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بدر الدین اجمل نے اگر معافی نہیں مانگی تو...

تحریر: ابوالمیزان27 دسمبر، 20181,624قارئین4 تبصرےمطالعے کا وقت: ۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:

عطر بھی آخرکار بدبودار نکلا۔عطر فروش اجمل نے آج ایسی‌ گندھ پھیلائی ہے جس کی شدت سے ہر مسلمان تکلیف میں مبتلا ہے۔تین طلاق جیسی بدعت کے طفیل حلالہ جیسی حرام کاری میں ایسے لوگ ہی ملوث ہیں۔انھیں خوشبو سے کیا واسطہ۔

اسلام اللہ کا دین ہے اور اس کو بعینہ ماننے والے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں کہیں سلفی اور کہیں اہل حدیث کے نام سے جانے جاتے ہیں۔اس بات کا اعتراف بیشتر انصاف پسند احناف بھی کرتے ہیں۔جو اللہ کی عبادت میں شرک کے مرتکب ہیں انھیں نہ دین کی سمجھ ہے نہ دین داروں سے محبت۔ایسے لوگ دین والوں کی دشمنی میں اللہ کی عبادت کے لیے بنائی ہوئی مسجد ڈھانے میں بھی جری واقع ہوئے ہیں۔پورے ہندوستان میں ایک دو نہیں سیکڑوں ایسے واقعات ہیں جب انھوں نے اپنے ہی دینی بھائیوں سے مار پیٹ کی،انھیں مسجد بنانے سے روکا،قانونی چارہ جوئی تک کر ڈالی اور جب کبھی لگا کہ کسی معاملے میں پھنس جائیں گے تو بے گناہوں پر الزام ڈال کر چلتے بنے۔ہندوستان بھر کی تین طلاق سے متاثر ہر مظلوم عورت گواہ ہے کہ اسے خیر و عافیت کی بات کس نے بتائی،دین کی صحیح تعلیمات سے کس نے روشناس کرایا اور اللہ کی کتاب قرآن میں مذکور طور زندگی کس نے سمجھایا اور کس نے نبی کی سنت بتائی۔سلفیوں کے علاوہ کون ہے جو اس درد کا درماں بنا۔

تاریخ کا یہ کتنا عجیب موڑ ہے جب ہمارے ملک کی‌ مدعو قوم قرآن پڑھ کر طلاق کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ بدر الدین اجمل جیسے بدنصیب لوگ جنھیں نہ قرآن سمجھنے کی توفیق مل رہی ہے اور نہ معاملات میں انصاف کی بات کرنے کی۔یہ صرف ایک سلفی کے لیے سنگین معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام ہندوستانی مسلمانوں کی عزت،عصمت اور شناخت پر سوالیہ نشان ہے۔

جس جگہ سرعام بدر الدین اجمل نے اتنا بڑا جھوٹ بولا ہے اگر اسی جگہ معافی نہیں مانگی تو سمجھو سارے ہندوستانی مسلمان زندہ نہیں ہیں مرچکے ہیں۔

مسلمانوں کے تمام حساس اداروں بالخصوص سلفیان ہند کی نمائندہ تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث اور تمام صوبائی جمعیتوں کو مل کر جتنی جلدی ممکن ہو اس شخص سے ابھی آن ریکارڈ معافی منگوانا چاہیے اور کل بھی وہ اپنی بات سے رجوع کرے اور معافی مانگے جہاں اس نے یہ بات کہی ہے۔صحافی کو کتے کا بچہ کہا تو وہیں معافی منگوالی۔کیا سلفی صحافیوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اب تک سورہے ہیں؟



پارلیمنٹ میں بدرالدین اجمل کا بیان:

"سلفی،دیکھئیے،سلفی وہ لوگ ہیں،جن کو آج ہندوستان میں گورنمنٹ آف انڈیا دہشت گرد قرار دے چکی ہے،ہم سلفیوں کے ساتھ نہیں ہیں،ہم ان کے عقیدے کو نہیں مانتے".

"آج پورے ہندوستان میں جو دہشت گردی ہورہی ہے،وہی سلفی سیکٹر کرا رہا ہے،Prove ہورہا ہے بار بار".



اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (4)

M
Md Jahangir
28 دسمبر، 2018
الإناء يترشح بما فيه "کے مصداق اس جاہل عطر فروش مولوی بدر الدین اجہل کے ناپاک منہ سے سبقت لسانی سے نہیں بلکہ اس کے جان بوجھ کر عداوت و دشمنی میں سلفیوں کے خلاف جھوٹی باتیں نکلیں، ایک سال پہلے جب طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے جاری کردہ فارم پر دستخط کروایا گیا تھا تو اس وقت میں تذبذب میں تھا کے غلط کا ساتھ دینا غلط ہوگا اور آج یہی ہوا وہ آستین کا سانپ نکلا اور پارلیمنٹ میں سلفی کے خلاف زہر اگل دیا، اس اجہل کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ میں اس کو معافی مانگنے پر مجبور کرنا چاہیے جماعت کے اکابرین سے گزارش ہے کہ وہ اس کام کو انجام دیں (محمد جہانگیر سلفی بنگال 9507101131)
ج
جلال الدین
27 دسمبر، 2018
بدرالدین اجمل نےسلفیت سے متعلق جو گند اور خباثت پارلیمنٹ میں پھیلائی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے یہ دلوں کا نفاق ہے جو ان کی زبان سے ظاہر ہوگیا ورنہ کہیں سنت اور بدعت میں اشتراک ممکن ہے۔مدیر محترم کی بروقت تحریر انتہائی ضروری تھی۔دیوبندیت اور حنفیت کا حوالہ دیکر انھوں نے اصل اسلامی تعلیمات سے ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے ایسے لوگوں سے خیر کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے جو اتباع رسول پر حنفیت کو ترجیح دیتے ہیں کتاب و سنت کے بجائے اکثریت کو حق کا معیار سمجھتے ہیں۔اور یہ جمعیت اہل حدیث کے لئے بھی اہم پیغام ہے کہ وہ دیوبندیوں حنفیوں سے مسلم پرسنل لاءکی غیر مشروط حمایت کے معاملے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر طلاق،حلالہ،اور مساجد میں خواتین کی عبادت سے متعلق مسائل کی شرعی وضاحت پوری طاقت سے میڈیا میں کرے اور اسلام کی ان اہم تعلیمات کو محض داخلی مسائل قرار دیکرحنفیت ذدہ اسلام سے سماج کو بچانے کی کوشش کرے۔وقت آگیا ہے کہ غیر شرعی عقیدہ اور سنت رسول سے بے رغبتی برتنے والوں کا علمی احتساب کرتے ہوئے ان کی علمی سماجی خباثتوں کا آئینہ دکھلا جائے۔ بدر الدین اجمل یہ کوئی جاہل یا عام بندہ نہیں کہ اس کی باتیں غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کری جائیں بلکہ یہ تقلیدی مزاج کی حامل مسلم نمائندہ شخصیت ہے ان کی باتوں کا علمی اور سرکاری محاسبہ دونوں وقت کی سخت ضرورت ہے۔ایسا مسلم پرسنل لاء جو اسلامی کی تعلیمات کو مسخ کرنے کا سبب ہے محض اتحاد کے نام پر اس میں شمولیت وقت کی ضروت ہے یا اب اس سے مکمل اظہار برات کا وقت آچکا ہے؟ یہ پیٹھ میں خنجر گھوپنے والی قوم ہے انھوں نے اس سے قبل بھی جماعت کا پلیٹ فارم اپنی تائید کے لئے استعمال کیا اور حکومت سے پٹخنی کھانے کے بعد جماعت مخالف بیان بازی کرنے لگے موضوع تفصیل طلب ہے ان شاء اللہ کچھ باتیں آگے ضرور ضبط تحریر میں لانے کی کوشش ہو گی مدیر محترم کو اللہ جزائے خیر عطا فرمائ
R
Rakibul Islam
27 دسمبر، 2018
Please write more for further....We should take an action immediately
R
Rakibul Islam
27 دسمبر، 2018
Brother Do you know everything about the issue ?

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وفا

کوئی حسن ظن انتہائی خوشگوار حقیقت میں تبدیل ہوجائے تو صرف حیرت ہی نہیں ہوتی، بڑی مسرت بھی ہوتی ہے۔ وہ گھڑی بھی ایسی تھی کہ آنسو چھلک پڑے، خوشی کے آنسو۔حقیقت کے مشاہدے میں ذرا سا وقت گزرا تھا کہ اس کوالٹی کی تصدیق بھی ہوگئی جس کے بغیر کوئی تعلق نہیں سنبھلتا۔ پیچھے […]

منظر نما
1,51826 جنوری، 2025
بدر الدین اجمل نے اگر معافی نہیں مانگی تو... - دی فری لانسر | دی فری لانسر