کتاب: مولانا محمد اعظمی: احوال و آثار
مصنف:طارق اسعد (فاضل جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ)
ناشر:مکتبہ الفہیم،مئو ناتھ بھنجن
سن اشاعت: 2026 ء
صفحات: 400
تبصرہ نگار: ابو تحریر
تقریباً دو صدی پرانی بات ہے،مولانا سخاوت علی جون پوری(م:1858 ء) نے حصول تعلیم کے لیے دہلی کا قصد کیاتھا،اس وقت گلستان دہلی ایمان و یقین اورتزکیہ و تربیت کی بادبہاری سے مہکا مہکا تھا۔انھوں نے یہاں پر مولانا عبدالحی دہلوی اور شاہ اسماعیل شہید دہلوی سے درسیات کی تکمیل کے بعد اپنے وطن میں درس و تدریس کی بزم سجائی تو ان کی درس گاہ سے قرب و جوار کے متعدد لوگوں نے دین و دانش کے رموز سیکھے۔ان میں ایک نام مولانا فیض اللہ مئوی (م: 1889 ء) کاہے جن کو مولانا جون پوری کے مکتب کی کرامت اور فیضان نظر نے کچھ اس انداز سے تراشا اور تیار کیا تھا کہ عہد طالب علمی ہی سے تدریس کا آغاز کردیا تھا۔انھوں نے مولانا جون پوری سے استفادہ کرنے کے بعد علم کی جو جوت جگائی،اس کا ایک عالم ثنا خواں ہے لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1868 ء میں مدرسہ اسلامیہ کا قیام ہے جو جامعہ عالیہ عربیہ (مئو ناتھ بھنجن )کے نام سے مشہور ہے۔انھوں نے سرزمین مئو میں اسلامی علوم کا جو کومل پودا لگایا تھا،اس کو ان کے خاص شاگرد ملا حسام الدین مئوی (م:1310 ھ) نے اپنی محنت،فراست اور اخلاص عمل سے ایک چھتنار شجربنادیا،جس کے گھنیرے سایے میں خلق کثیر کو ایمان و یقین اور دانش و حکمت کے موتیوں سے اپنے اپنے دامن کو بھرنے کا موقع ملا۔نوآبادیاتی ہندستان میں اس درس گاہ سے مولانا عبدالسلام مبارک پوری (م:1924 )مولانا ابوالنعمان عبدالرحمان آزاد مئوی(م: 1938 )اور مولانا محمد اسحاق کوپاگنجی (م:1341 ھ)جیسے اساتذہ منسلک تھے اورآزاد ہندستان میں اس مدرسے کو ترقی اور توسیع کے ساتھ سند اعتبار عطا کرنے میں جن شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا،ان میں ایک اہم نام مولانا محمد اعظمی (1930۔2023 ء)کا ہے۔زیر تبصرہ کتاب میں عزیزم طارق اسعد سلمہ نے مولانا اعظمی کے سوانحی کوائف،علمی سفر اور متنوع نشاطات کی بکھری ہوئی دل چسپ اور حوصلہ افزا داستان کو سلیقے کے ساتھ مرتب کر کے قارئین باتمکین کی ضیافت کے لیے پیش کیا ہے۔
مولانا اعظمی کا شمار بیسویں صدی کے معروف علما میں ہوتا ہے،ان کی جنم بھومی مئو ناتھ بھنجن تھی اور کرم بھومی بھی یہی شہر ہنروراں تھا۔انھوں نے تدریس و تصنیف کے مشاغل اور انتظامی امور کے جھمیلے کے باوجود شہر میں جاری دعوتی نشاطات میں بھی فعال کردار ادا کیا تھا جس کی تفصیل اس کتاب میں موجود ہے۔یہ کتاب دس فصلوں پر مشتمل ہے،جس میں بالترتیب مئو ناتھ بھنجن کے تعارف،شہر میں اسلام کے اولین نقوش،تحریک اہل حدیث کے نشاطات و اثرات،خاندانی پس منظر،تعلیم،تدریس،تخلیقی سفر،اساتذہ،تلامذہ،دعوتی،جماعتی اور سماجی خدمات،اہل علم سے تعلقات،عائلی زندگی،ذاتی احوال و اوصاف اورسفر آخرت جیسے گوشوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ضمیمے میں تعزیتی خطوط اورمنظومات شامل ہیں،تعلیمی اسناد،مکتوبات اور مطبوعات کےعکس بھی،کتابیات پر یہ علمی سفر ختم ہوجاتا ہے۔
سوانح نگاری کا موضوع شخصیت ہوتی ہے اورکسی شخصیت کی تعمیر اور فکر کی تشکیل میں ماحول اور خاندانی پس منظر کا کردار اہم ہوتا ہے،اسی لیے سوانحی کوائف اور دیگر تفصیلات کی پیش کش سے قبل ماحول اور خاندان کے اہم گوشوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تاکہ شخصیت کے ارتقائی سفر اور انتاجات کے جوانب کی تفہیم میں آسانی ہوسکے۔مصنف کو بھی اس کی اہمیت کا اعتراف ہے،اسی لیے انھوں نے کتاب کے آغاز میں مئو کے تاریخی وعلمی پس منظر اور تحریک اہل حدیث کے آغاز و ارتقا کی کہانی کو ترتیب اور سلیقے سے پیش کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ مئو کی ثقافتی تاریخ کے متنوع جہات پر معلومات و مواد کی تدوین تو کافی حد تک ہوچکی ہے لیکن ان کی تنقیح اور تہذیب کا کام ابھی باقی ہے۔گزشتہ تین دہائیوں کے دوران میں مئو کی شخصیات پر جو کتابیں منظر عام پر آئی ہیں،ان میں سے اکثر کتابوں میں شہر میں تعلیم و ثقافت کے نشاطات سے متعلق معلومات کا مینابازار توسجایا دیا گیا ہے لیکن پیش کش میں تنقیح و تہذیب کی اذیت ناک کمی کی وجہ سے معلومات کا یہ مینابازار،لال قلعے کے اتوار بازار جیسا لگ رہا ہے۔انبساط اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب اس سے مستثنی ہے،اس میں(کافی حد تک ) مواد کی چھان بین کےساتھ ان کو مرتب انداز میں پیش کرنے کا اہتمام نظر آتا ہے۔واقعات و حوادث کی فہرست پیش کرنے کے بجائے اہم واقعات("مئو میں اہل حدیثوں کو مساجدسے نکالنے کا دل خراش واقعہ" (ص:56 ) اور" مئو ناتھ بھنجن میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد" (ص:59 ) کی روشنی میں شہر میں تبدیلی کی باد بہاری کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔مذکورہ بالا ذیلی عناوین مئو میں جماعت اہل حدیث کے تاریخی سفر میں" واٹر شیڈ "کی حیثیت رکھتے ہیں،جس شہر میں کبھی سنت کے مطابق نماز جیسی عبادت ادا کرنے کے "جرم"میں اہل حدیث افراد کومسجدوں سے نکالا گیا،جسمانی اذیت پہنچائی گئی اور سماجی مقاطعہ تک کی نوبت آگئی تھی،اسی شہر میں ان کی جماعت کے سب بڑے دعوتی اور تبلیغی ایونٹ کا اہتمام،یہ بتا رہا ہے کہ فکر و نظر میں انقلاب کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔"
کتاب،شہرمیں اسلامی تعلیم و ثقافت کے منظر نامے کو پیش کرنے کے ساتھ جس انداز سےمولانا اعظمی کے خاندانی پس منظر کوبیان کرتی ہے،اس سے ان کی شخصیت کی تفہیم میں آسانی ہوجاتی ہے۔مولانا اعظمی کا خاندان حقیقت میں علمی تھا اور علم پرور بھی،ابھی تک شہر کے درودیوار اور کوچہ و بازار میں جو رونق و رعنائی نظر آرہی ہے،اس میں اس خاندان کی خیرات اور خدمات کا حصہ قابل ذکر ہے اور لائق رشک بھی لیکن چندبرسوں سے اس خاندان کے حوالے سے "پدرم سلطان بود" کا جو بیانیہ جاری ہے،یہ کتاب اس سے کافی حد تک محفوظ ہے جب کہ مصنف بھی اسی خاندان کا ایک فرد ہے جو نہ تو عام ہے،نہ ہی خام بلکہ نئی نسل کا نمائندہ فرد ہے،اس کے باوجود بھی اپنے قلم کومذکورہ بیانیے سے آلودہ نہیں کیا جوبجائے خود خاصے کی چیز ہے۔
مولانا اعظمی کا تعلیمی سفر اور تدریسی نشاطات قریہ قریہ شہر شہر سے منسوب ہیں جن کو ماہ و سال اور دورانیے کی پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور مزید وضاحت کے لیے ٹیبل اور فلو چارٹ کا فن کارانہ استعمال بھی کیا گیا ہے جو اردو کتابوں میں کم کم نظر آتا ہے۔اساتذہ،تلامذہ،رفیقان سفر اور ارباب علم و ہنر سے تعلقات کا مختصر تعارف خوب ہے۔عائلی زندگی اور اولاد واحفاد کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیمی روایت کا سلسلہ چوتھی نسل تک منتقل ہوچکا ہے اور تعلیم میں قدیم و جدید اور مردوعورت کی تفریق نظر نہیں آر ہی ہے جو مولانا اعظمی کے تعلیمی نظریے کی ترجمان ہے۔تصنیفی خدمات کے تعارف میں قدرے اختصار سے کام لیا گیا ہے لیکن اس سے تخلیقی سفر کے آغازوارتقا کے ساتھ جہان تخلیق کے جوانب کی طرف بھی اشارے ہیں۔مولانا اعظمی کا اختصاص دینیات اور فقہ و فتاوی تھا لیکن انھوں نے سماجی اور سیاسی موضوعات پر جس منفرد اسلوب میں اظہار خیال کیا ہے،وہ ان کےسماجی سروکار اور سیاسی فکر دونوں کو درشاتا ہے لیکن کتاب میں اس گوشے کو نمایاں نہیں کیا گیا ہے۔مضامین و مقالات کی موضوعاتی فہرست نے کتاب کو مزید مفید بنادیا ہے،ہر چند یہ فہرست نامکمل ہے لیکن مصنف کی محنت اور حسن ذوق کی آئینہ دار ہے۔
کتاب میں بعض اقتباسات اورمعلومات محل نظر ہیں جیسے مولانا اعظمی کے ایک اقتباس:" ملا حسام الدین مئوی تلمیذ میاں صاحب محدث دہلوی،مولانا فیض اللہ کے خاص مخلص تلمیذ رشید تھے۔۔۔"(ص:42 )سے لگتا ہے کہ ملا صاحب بھی میاں صاحب کے شاگرد تھے جب کہ ایسا نہیں ہے۔مولانا عزیز الحق عمری کا یہ اقتباس"۔۔۔سید مسعود سالار چکیا بنارس کے راجہ کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوئے۔۔۔"(ص:66 ) درست نہیں ہے،بنارس میں ان کی طرف منسوب قبر بقول مولانا محمد ابوالقاسم فاروقی فرضی ہے۔(دام ہر موج میں ہے،ص:330 ) ڈاکٹر رفیق احمد کا ایک اقتباس تقریباً دو صفحات پر مشتمل ہے (ص:187 تا189 )اس میں جو معلومات ہیں،ان کی تفصیل (ص:175) پر گزر چکی ہے،اس لیےاس کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ایک جگہ لکھا ہے کہ:"دانش کدہ لائبریری مئو ناتھ بھنجن کی طرف سے "النبی الامی"نام سے ایک کتاب شائع ہوئی تھی،پھر اسی لائبریری کے زیر اہتمام "کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے؟کے موضوع پر تحریری مسابقے کا بھی انعقاد کیا گیا۔۔۔"(ص:353 )میرا حافظہ اگر وفا کررہا ہے تولائبریری نے مذکورہ بالا عنوان سے ایک تحریر ی مسابقے کا اہتمام کیا تھا اور بعد میں مقالات کے مجموعے کو شائع بھی کیا تھا،اس کا پس منظر"سرشاخ طوبی"(فضا ابن فیضی،جامعہ سلفیہ،بنارس 1990 ء)میں شامل ایک نعت(امی حرف آشنا) ہے۔یہ کہانی وقت طلب ہے،تفصیل کبھی اور،ان شاء اللہ۔"ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری کو عربی صحافت میں بیش بہا خدمات کے اعتراف میں 1992 ء میں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔"(ص:233 )یہ ایوارڈ قدیم زبانوں میں مجموعی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے،اس میں ادب،صحافت اور فکشن وغیرہ کی کٹیگری نہیں ہے۔مولانا عبدالمتین بنارسی سلفی نے بھی آواز ملک(بنارس )میں مطبوعہ ایک تحریر میں اس ایوارڈ کو عربی صحافت سے جوڑا تھا تو مولانا اجمل یوسف(لائبریرین)نے اسی روزنامے میں اس کی تصحیح کی تھی۔
کتاب میں پروف کی کچھ غلطیاں رہ گئی ہیں جیسے سید احمد گنگوہی(ص:43 ) کی جگہ رشید احمد گنگوہی اور دانیال لطفی(ص: 322 ) کے بجائے دانیال لطیفی ہونا چاہیے۔ڈاکٹر مومن محی الدین کی کتاب (مومن انصاری برادری کی تہذیبی تاریخ )کا نام " مومن انصار برادری کی تہذیبی تاریخ (ص: 36،37،396)چھپ گیا ہے۔مولانااعظمی کے دومقالے("توحید اور ہندستانی مصنفین "اور "شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور عقیدۂ وحدت الوجود" کے عربی ترجمے )کا ص: 233 اور 234 پر ذکر ہے لیکن یہ دونوں مقالات فہرست میں نظر نہیں آرہے ہیں۔"ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری کے امتیازی اوصاف"فہرست مقالات (ص:341 )میں دوجگہ شائع ہونے کی وجہ سے دوبار شمار کرلیا گیا ہے۔
مولانا اعظمی کی پوری زندگی درس و تدریس میں گزری تھی،ایک طویل مدت تک صحیحین کا درس دیا تھا لیکن اس کتاب میں ان کے اسلوب تدریس پر خاطر خواہ مواد نہیں ملتا ہے،مولانا محمد مظہر اعظمی نے شرح ما ئۃ عامل اور سراجی کی روشنی میں ان کے طریقۂ تدریس کی طرف اشارہ کیا ہے۔(ص:187 ) تدریس حدیث ان کا خاص میدان تھا اور ان کے بعض شاگرد اس میدان میں مشہور بھی ہیں لیکن کتاب مولانا اعظمی کے تدریس حدیث کے طریقے کے بارے میں خاموش ہے،کچھ تلامذہ کے ذاتی تاثرات سے اس کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔حافظ اسعد اعظمی نے کتاب کے مقدمے میں مولانا اعظمی کے مخصوص سیاسی نظریات کی طرف اشارہ کیا ہے اور مصنف نے بھی اشارے ہی سے کام لے لیا ہے جب کہ چندمضامین کی روشنی میں ان کی سیاسی فکر خاص طور پر تقسیم ہند کے بارے میں ان کے خیالات اورمتحدہ ہندستان کے خواب کے تجزیے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
یہ کتاب ایک ایسے عالم دین کی داستان حیات ہے جنھیں تبصرہ نگار کو تین چار دہائی تک قریب سے دیکھنے اور چند ہفتے تلمذ کا شرف بھی حاصل ہے،ان سے بہت سی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہیں جن کو"خزاں رسیدہ چمن کی آخری بہار " کے عنوان سے قلم بند بھی کیا تھا لیکن بہت سے مضامین کی طرح یہ تحریر بھی ابھی تک سورج کی روشنی نہیں دیکھ پائی ہے۔اس کتاب کوپڑھتے وقت ماضی کی یادیں پھر سے ہجوم کرنے لگیں اور" ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے" والی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جس کی ذمے داری مصنف پرنہیں،اس کم سواد تبصرہ نگار پر عائد ہوتی ہے،مصنف نے تو ایمان داری کے ساتھ اپنا حق ادا کردیا ہے۔یہ کتاب سوانحی ادب میں ایک اضافہ ہے جس کو بغیر کسی تکلف کے اہم بھی کہاجاسکتا ہے،تسلسل،ترتیب،توازن،اسراف لفظی سے پرہیزاور مواد کی تحقیق کا اہتمام اس کتاب کی امتیازی خصوصیات ہیں،ایڈیٹنگ بھی ڈھنگ سے ہوئی ہے۔طارق سلمہ نے اپنے تخلیقی سفر کے ابتدائی مرحلے میں ایک اچھی کتاب پیش کی ہے جس سے ان کی علمی اورقلمی اٹھان کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔مولوی عبدالحق نے علامہ اقبال کے پہلے شعری مجموعے "بانگ درا" پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "جس شاعری کی ابتدا "کوہ ہمالہ" ہو اس کی انتہا کیا ہوگی!"
اس کتاب کےمصنف طارق اسعد (فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ )کا شمار نئی نسل کے باذوق قلم کاروں میں ہوتا ہے،وہ عربی اور اردو دونوں زبانوں میں کمال اعتماد سے لکھتے ہیں،دینیات و ادبیات کے ساتھ بعض اچھوتے موضوعات پر بھی ان کے مضامین وقفے وقفے سے شائع ہوتے رہتے ہیں،جامعہ سلفیہ،بنارس سے فارغ التحصیل ہیں،جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ سے بی۔اے اور ایم۔اے کرچکے ہیں،عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ہیں لیکن ان کی اردو نگارشات ان عیوب سے تقریباً پاک ہے جن کو بعض لوگ "مدنی اردو" کہتے ہیں۔وہ مولانا اعظمی کے پوتے ہیں لیکن کتاب میں اس رشتے سے زیادہ علمی تقاضے کا اہتما م نظر آتا ہے جو ان کی بالغ نظری اور علمی کمٹمنٹ کی دلیل ہے۔دعا ہے کہ وہ اسی انداز سے حرف مبیں کو زینت لوح و قلم کرتے رہیں آمین۔
پس نوشت:عزیزم ثروان نعیم نے "استاذ الاساتذہ مولانا محمد اعظمی:حیات و خدمات " کے عنوان سے مولانا اسعد اعظمی (استاذ جامعہ سلفیہ،بنارس)کی نگرانی میں مقالہ برائے سند فضیلت 2011 ء ترتیب دیا تھا،اس کتاب کی تیاری میں اس غیر مطبوعہ مقالے سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔اللہ کرے یہ مقالہ بھی جلد از جلد زیور طبع سے آراستہ ہوجائے آمین۔