جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

حافظ صلاح الدین یوسف، حیات و خدمات: معاصر دینی ادب کا ایک فکر انگیز اور بصیرت افروز جائزہ

تحریر: ڈاکٹر ابو تحریر5 فروری، 20231,671قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱۳ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
حافظ صلاح الدین یوسف، حیات و خدمات: معاصر دینی ادب کا ایک فکر انگیز اور بصیرت افروز جائزہ
فل اسکرین دیکھیں

کتاب: حافظ صلاح الدین یوسف: حیات و خدمات

مرتب: ابوالمیزان

ناشر: صوبائی جمعیت اہل حدیث،ممبئی

صفحات: 469

اشاعت اول: دسمبر 2020


اسلام،جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے،یہاں پر مسلمانوں کی مجموعی آبادی 600 ملین سے زیادہ ہے جو اس خطے کی تقریباً ایک تہائی آبادی پر مشتمل ہے،متعدد اسباب کی بنا پر یہاں کے مسلمانوں کی ثقافت،مذہبی رجحانات اور افکار وعقائد کے مطالعات پر خاطر خواہ توجہ دی جارہی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے اسلامی اداروں،مکاتب فکر اور دانشورانہ روایت کے تفہیم اور تجزیے پر عربی اور اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی اچھا خاصا مواد موجود ہے اور اس میں مستقل اضافہ بھی ہورہا ہے۔جن میں درج ذیل انگریزی کتابوں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے:

Islamic Revival in British India: Deoband,1860-1900 (Barbara Daly Metcalf) ٭

Islamic Reform and Revival in Nineteenth-century India: The Tariqah-i- Muhammadiyah٭ (Harlan O. Pearson)

Devotional Islam and Politics in British India: Ahamd Raza Khan Barelwi and his Movements٭

1870-1920 (Usha Saniyal)

The Ulama of Firangi Mahal and Islamic Culture in South Asia (Francis Robinson)٭

Islamism and Democracy in India: The Transformation of Jamaat-e-Islami (Irfan Ahmad)٭

اس خطے میں آباد مسلمانوں کے درمیان فکر،مسلک،ثقافت اور زبان کی سطح پر غیرمعمولی تنوع اور بوقلمونی پائی جاتی ہے لیکن ان کے درمیان سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان اردو ہے،اس لیے اس کو Lingua Franca بھی کہا جاسکتا ہے۔اس زبان میں اسلامیات کے متنوع گوشوں پر جو علمی سرمایہ موجود ہے،وہ کئی لحاظ سے منفرد ہے اور قابل قدر بھی۔اسی وجہ سے دنیا کی دیگر زبانوں میں اردو کی اسلامی تراث کے ترجمے کا کام برسوں سے جاری ہے جس نے اہل علم کو اردو میں موجود مذہبی سرمایے کی اہمیت سے متعارف کرایا ہے۔عام طور پر اردو زبان اپنے شعر وادب کی وجہ سے زیادہ معروف ہے،دیوان غالب کی دھوم پوری دنیا میں ہے اور بہت سے لوگ اسی دیوان کی بدولت اردو سے قریب ہوئے لیکن مرزا غالب (1797-1868) کے ہم عصر شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی(1779-1831) نے’ تقویۃ الایمان‘ کی تالیف بھی اسی زبان میں کی تھی جس نے اس زبان کو مقبولیت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ قارئین کے عقائد کی اصلاح بھی کی اور آج بھی اس کتاب کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔خواجہ احمد فاروقی نے اپنے فکر انگیز مقالے ’اردو میں وہابی ادب‘ میں اس کتاب اور اس فکر کے حامل دیگر مصنفوں کی متنوع خدمات کا اعتراف کیا ہے۔خوشی کی بات ہے کہ آج بھی اس فکر کے حامل قلم کاروں کی تخلیقات سے زبان کا دائرہ وسیع ہورہا ہے اور تفہیم کتاب و سنت کا مقدس مشن بھی آگے بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ نصف صدی کے دوران جن قلم کاروں نے اس زبان میں دینیات کے موضوع پر قابل قدر اضافہ کیا ہے ان میں ایک نام بلکہ اہم نام حافظ صلاح الدین یوسف (1945-2020) کا ہے۔انھوں نے متنوع موضوعات و مسائل پر عمدہ اور منفرد انداز میں کتابیں لکھیں جن میں عقائد،عبادات اور معاشرت کے باب میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کرنے کے ساتھ معاصر دینی شخصیات اور ان کے افکار کا بھی تنقیدی جائزہ لیا ہے جو معاصر دینی ادب کا ایک اہم گوشہ ہے اور ایک حد تک حافظ صاحب کا شناخت نامہ بھی۔زیر تبصرہ کتاب ان کے علمی اور تخلیقی سفر کا شان دار تعارف ہے اور کافی حد تک علمی تجزیہ بھی۔

کتاب کے ابتدائی تیس صفحات میں افتتاحیہ،پیش لفظ،عرض ناشر،تقریظ،عرض مرتب اور گرامی نامے شامل ہیں،جن میں زیادہ تر کام کی باتیں ہیں۔اس کے بعد ’حافظ صاحب کا علمی مقام‘(ص:37 تا 122) کے ذیلی عنوان سے چودہ مضامین؍ مضمون نما تاثرات؍ ہیں جن سے حافظ صاحب کی سیرت،علمی شخصیت اور معاصر شخصیات سے علمی روابط کے دل چسپ پہلو سامنے آتے ہیں۔اس حصے کے بعد ’سوانحی حالات‘ (ص: 138 تا155) کے ذیلی عنوان سے دو مقالات ہیں جن میں ایک مقالہ ’مشفق ابا جان‘(ص:148 تا 155) تو ان کے صاحب زادے (حافظ محمد عثمان یوسف مدنی) کا ہے جو حافظ صاحب کے شب وروز کے معمولات پر مشتمل ہے اور صاحب البیت ادری بما فیہ کا مصداق ہے۔اس کے بعد اصل کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ دیگر تحریریں قابل اعتنا نہیں ہیں،ان کی اپنی اہمیت ہے لیکن حافظ صاحب نے دینیات کے الگ الگ گوشوں پر جو کچھ لکھا ہے،وہ اسی حصے میں جلوہ گر ہوتے ہیں اور ان کے علمی نبوغ اور صلاحیت ذاتی کی ترجمانی کرتے ہیں۔مرتب نے اس حصے کو الگ الگ ذیلی عناوین سے معنون کیا ہے جس کی ایک جھلک اس ٹیبل میں موجود ہے۔

ذیلی عناوین صفحات مقالات کی تعداد
حافظ صاحب بحیثیت مفسر 156 تا 225 پانچ(5)
حافظ صاحب بحیثیت محقق 230 تا 300 چھے(6)
حافظ صاحب بحیثیت قلم کار 313 تا 325 تین(3)
حافظ صاحب بحیثیت مصنف 330 تا 437 چھے(6)
حافظ صاحب بحیثیت مدیر 446 تا 449 ایک(1)

469 صفحات پر مشتمل کتاب میں تین سو سے زائد صفحات پر مذکورہ بالا مقالات پھیلے ہوئے جن سے کتاب کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مقالہ نگار حضرات نے مقالات کو پھیلانے کے بجائے ایک آدھ گوشے پر ارتکاز کیا ہے۔مضامین؍مقالات کا انداز یکساں نہیں ہے،کچھ پر تاثراتی رنگ غالب ہے،بعض کا انداز تجزیاتی اور تنقیدی ہے اور کچھ خالص تحقیقی ہیں۔زیادہ تر مقالات حافظ صاحب کی Magnum Opus ’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘ اور ’تفسیر احسن البیان‘ کے الگ الگ گوشوں کی تفہیم اور تجزیے پر مشتمل ہیں۔ان کی دیگر تصانیف (’مولانا امین احسن اصلاحی: اپنے حدیثی و تفسیری نظریات کی روشنی میں،فتنۂ غامدیت: ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ،فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات: ایک علمی و تحقیقی جائزہ) کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔حافظ صاحب کے اسلوب نگارش پر دو مضامین ہیں اور ان کی تحریروں کی خصوصیات کو اقتباسات کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ترجمہ نگاری اور صحافت نگاری پر ایک ایک مضمون ہے۔مقالہ نگار نے حافظ صاحب کی صحافت اور ادارت پر نئے انداز سے لکھا ہے،امید ہے نئے لکھنے والے اس مضمون کی مکرر قرأت سے لکھنے کا سلیقہ سیکھیں گے۔مضمون کا پہلا پیرا گراف ہی بڑا معنی خیز ہے اور اسلوب تو عبدالرحمن بجنوری کی یاد دلاتا ہے۔’’الاعتصام جاری ہوا تھا تو اس کی حیثیت ’التوعیہ‘ جیسی تھی۔مولانا محمد اسماعیل سلفی (گجرانوالہ) کے کہنے پر پہلے گجرانوالہ جمعیت اور پھر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی تحویل میں جانے سے اس کا مقام ’ ترجمان‘ جیسا ہوگیا تھا پھر جب وہ جمعیت کا ترجمان نہیں رہا تو مولانا صفی الرحمان مبارک پوری رحمہ اللہ کے ’ محدث‘ جیسا ہوگیا۔اس وقت ’الاعتصام‘ کے مدیر حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ تھے۔‘‘(ص:446) اس اقتباس میں’ محدث‘ کے ساتھ تخصیص ہے لیکن’ ترجمان‘ کے ساتھ تعمیم ہے،جب کہ ترجمان کا معیار بھی ہمیشہ یکساں نہیں رہا ہے۔مولانا مجاز اعظمی اور مولانا عبدالحمید رحمانی کے زمانے کے ’ترجمان‘ کا رنگ وروپ اس ’ترجمان‘ سے یکسر مختلف تھا جو ہم گزشتہ دو تین دہائی سے دیکھ رہے۔

’مولانا حافظ صلاح الدین کی تصانیف: ایک تعارفی و تجزیاتی مطالعہ‘ (ص:330 تا397) میں ان کی(37) کتابوں کا تعارف اور تجزیہ ہے اور نظر ثانی،تنقیح و تحقیق کے ذیلی عناوین سے مزید آٹھ(8) کتابوں کا تعارف ہے۔یہ مضمون کئی مضامین کی قرأت سے بے نیاز کردیتا ہے اور بعض مضامین میں جو تشنگی ہے اس کو بھی دور کردیتا ہے۔مثال کے طور پر اس کتاب(مولانا امین احسن اصلاحی: اپنے حدیثی و تفسیری نظریات کی روشنی میں،ص:361-64) کے تعارف کو جب ’حافظ صلاح الدین یوسف کا اسلوب نقد‘ (ص:254-60) کے ساتھ پڑھتے ہیں تو مباحث مزید واضح ہوجاتے ہیں،قاری کی معلومات کے ساتھ علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور کتاب کی ایک مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے۔اسی طرح حافظ صلاح الدین یوسف بحیثیت مترجم(ص:156) اور حافظ رحمہ اللہ کا ترجمۂ قرآن: ایک لسانی مطالعہ (225)کو جب ایک ساتھ پڑھتے ہیں تو ایک دوسرے کی تشنگی دور ہوجاتی ہے۔کتاب کا مجموعی آہنگ منقبت سے عبارت ہے لیکن ایسے مضامین بھی موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئی نسل ’’خطاے بزرگاں گرفتن خطا ست ‘‘ کے غیر اصولی بیانیے سے باہر آچکی ہے۔جس کی مثال یہ مختصر مضمون (حافظ صاحب کی کتاب ’فتنۂ غامدیت‘:ایک تنقیدی جائزہ،ص:426تا429) ہے جس میں مضمون نگار نے ایمان داری اور بے باکی سے کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ: ــ’’قریب پونے چار سو صفحات میں جو مواد موجود ہے،اسے پونے دو سو صفحات میں بآسانی سمیٹا جاسکتا ہے۔‘‘(ص:428)

کتاب کی ترتیب میں فاضل مرتب نے محنت کی ہے،خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ ان کی محنت سے سلیقہ مندی اور پروفیشنل ایڈیٹنگ جھلکتی ہے جو اردو کتابوں میں خال خال نظر آتی ہے۔ایسا اس لیے ہے کہ انھوں نے اپنے ’’حق ترتیب‘‘ کا استعمال کیا ہے اور اس حق کے استعمال میں ذمے داری اور دیانت داری کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔بدقسمتی سے لوگ کتاب اور مضمون کی تمہید میں فرق نہیں کرپاتے ہیں جس کا خمیازہ قاری کو بھگتنا پڑتا ہے۔کتاب پڑھنے سے لگتا ہے،یہاں بھی اس طرح کی بے احتیاطی در آئی تھی جس کی طرف انھوں نے اشارہ بھی کیا ہے۔’’موصولہ مضامین میں بھی دقت نظری کے ساتھ ایڈنٹنگ کی گئی‘‘۔(ص: 32 ) مقالات کے عناوین میں جدت پسندی ہے،تکرار سے بچنے کی شعوری کوشش ہے،شخصیات پر لکھتے وقت ہمارے قلم کاروں میں خود نمائی کا جو چلن ہے،وہ اس کتاب میں کم نظر آتا ہے۔مرتب نے راستے کے بڑے پتھروں کو عقیدت سے چوم کر آگے بڑھ جانے والی روایت کو توڑا ہے۔نام سے زیادہ کام کا پاس رکھا ہے۔اسی لیے بھرتی کے مقالات پوری کتاب میں بکھرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ایک جگہ سلیقے سے موجود ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ مرتب نے سانپ اور لاٹھی والے محاورے کا استعمال کر کے اس حصے کو الگ کردیا ہے۔چند نگارشات (جو شاید بڑے نام یا نمائندگی کی وجہ سے) زیب کتاب ہیں اگر کسی کارن جلد بندی کے وقت رہ جاتیں تو کتاب کی علمی حیثیت اور حافظ صاحب کی خدمات کے تعارف میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

فکری لحاظ سے مقالہ نگاروں کا تعلق تو ایک ہی قبیلے سے ہے اور سب کی تعلیم و تربیت بھی اسلامی مدارس میں ہوئی ہے اور ان کی اکثریت آج بھی مدارس ہی سے وابستہ ہے لیکن کئی ایک نے مدارس سے فراغت کے بعد ہندستان اور عرب جامعات سے وہ تعلیم بھی حاصل کی ہے جس کو اعلی کہتے ہیں اور اپنے اپنے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔زمانی لحاظ سے دیکھا جائے تو مقالہ نگاروں کا تعلق تین نسل سے ہے،ان میں جماعت اہل حدیث کے جہابذہ ہیں اور نئی نسل کے باوقار شہزادے بھی بلکہ زیرتبصرہ کتاب کے مشمولات کی روشنی میں کم و کیف دونوں لحاظ سے پرانی نسل سے فائق نظر آرہے ہیں اور معاصر علمی منظر نامے میں قحط الرجال کی نفی کرتے ہوئے ایک روشن مستقبل کی بشارت دے رہے ہیں۔

کتاب میں بعض الفاظ؍جملے؍عبارتیں محل نظر ہیں جو شاید بے خیالی؍سرعت قلم کی دین ہیں،ان کی طرف صرف اس لیے اشارہ کیا جارہا ہے ہے تاکہ تکرار نہ ہونے پائے۔

متن صفحہ نمبر ملاحظات
حافظ صاحب نے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔ 56 قلم کار خود کے لیے لکھ سکتا ہے،دوسرے کے لیے نہیں،معنی بدل جاتا ہے۔
’مآثر الکرام‘ میں علامہ عبد الحی بلگرامی نے اس واقعہ کو لکھا ہے۔ 87 مذکورہ کتاب غلام علی آزاد بلگرامی کی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا ایک شاہ کار قول ہے۔ 100 قول کے ساتھ شاہ کار کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔
علم دن کی بنیاد خشیت الہی کے ستون پر قائم ہے۔ 117 بنیاد کی جگہ عمارت ہونا چاہیے۔
ایک طرف علمی جفا کوشی،لگن اور مقصد کے حصول۔۔۔ 121 جفا کشی صحیح ہے۔
نئے نئے شگوفوں سے گلشن فکروادب کی آبیاری کی جاتی ہے۔ 124 شگوفوں سے سجایاجاتا ہے،آبیاری نہیں کی جاتی ہے۔
رواں دواں اور شگفتہ ترجمہ چوں کہ عام فہم ہوتا ہے۔ 162 رواں ہونا چاہیے،اس کے ساتھ دواں لگانے سے معنی یکسر بدل جاتا ہے۔
مذکورہ حدیث کے متعلق لن ترانی ہانکتے ہوئے فرماتے ہیں۔ 257 لن ترانی کرنا،مارنا اور لن ترانی دکھانا وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔
آپ کی شخصیت علم کا یگانہ روزگار تھی۔ 318 آپ کی شخصیت یگانۂ روزگار تھی سے بھی کام چل سکتا ہے۔
ثقیفہ بنی ساعدہ میں کیا ہوا تھا۔ 422 صحیح املا سقیفہ بنی ساعدہ ہے۔

یہ ایک اچھی اور قابل صدمبارک باد کوشش ہے،جس کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ معاصر علمی اور ثقافتی تاریخ کا ایک گوشہ مرتب ہوجائے۔جس کو مزید کام کی ضرورت محسوس ہوگی،وہ اپنے ذوق اور ظرف کے لحاظ سے ان مواد سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ نیا پیش کرسکتا ہے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے،یہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے اور مرتب اور ناشر کے ساتھ مضمون نگار بھی قابل مبارک باد ہیں کہ ان کی اجتماعی جدوجہد سے نقش اول سامنے آیا ہے اور امید ہے کہ نقش ثانی کم و کیف دونوں لحاظ سے بہتر ہوگا۔ان شاء اللہ،’نقاش نقش ثانی بہتر کشد ز اول‘ چھے مہینے سے کم مدت میں اتنی معیاری کتاب کی ترتیب و اشاعت کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

راجیو گاندھی: ارمان و فتوحات (معاصر ہندستان کی ایک معتبر دستاویز)

کتاب: راجیو گاندھی: ارمان و فتوحات مصنف: وجاہت حبیب اللہ مترجم:شبیر احمد صدیقی، محمد حارث بن منصور سن اشاعت: ۲۰۲۳ء ناشر: براؤن بک پبلی کیشنز، نئی دہلی صفحات: ۳۵۰ قیمت: ۶۵۰؍روپے سنجے گاندھی کی حادثاتی موت (جون ۱۹۸۰ء) کے بعدراجیو گاندھی ہندستانی سیاست کے مطلع پر نمودار ہوئے اور پہلا انتخاب(جون ۱۹۸۱ء) امیٹھی (اترپردیش) سے […]

پس نوشت
1,27625 ستمبر، 2024

مولانا آزاد کی ایک انوکھی’ سوانح‘

مبصر: سہیل انجم کتاب: مولانا ابوالکلام آزاد مصنف: مولانا محمد اسحق بھٹی صفحات: 175 قیمت: 275 روپے ناشر: دانشکدہ پبلی کیشنز، مؤناتھ بھنجن، یوپی مولانا ابوالکلام آزاد کے عاشقوں، مداحوں اور عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ تعلیم یافتہ […]

پس نوشت
1,4821 ستمبر، 2024

ہند-اسلامی ثقافت کا عالم عرب میں تعارف

اسم الکتاب: اسھامات دائرۃ المعارف العثمانیۃ بحیدرآباد الھند فی نشر علوم الحدیث والمشیخات و الأثبات اسم المؤلف: راشد حسن المبارکفوری عدد الصفحات:280 الناشر: دارالمقتبس،بیروت،لبنان،2024 نوآبادیاتی ہندوستان میں مسلمانوں کے نشاطات کا ایک گوشہ اسلامی تراث کے احیا اور اشاعت سے عبارت ہے جس میں مسلم ریاستوں کے علم دوست ذمے داران کی توجہ،برطانوی استعمار

پس نوشت
1,9544 اگست، 2024

رد عقائد بدعیہ: اصلاحی ادب میں ایک اہم اضافہ

کتاب: رد عقائد بدعیہتالیف: مولانا نذیر احمد رحمانی اعظمی رحمہ اللہ تعالیٰتکملہ: سعید عابدیاشاعت: 2023صفحات: 440ناشر: مرشد پبلیکیشن، نئی دہلیرابطہ نمبر: 9990674503 اسلام نے عقائد کی اہمیت پر جتنا زور دیا ہے، مسلمانوں کی اکثریت عقائد کے تئیں اتنی ہی غفلت اور لا پرواہی کی شکار ہے بلکہ مسلمانوں کی اکثریت نے الگ الگ عنوان […]

پس نوشت
1,9091 جولائی، 2024
حافظ صلاح الدین یوسف، حیات و خدمات: معاصر دینی ادب کا ایک فکر انگیز اور بصیرت افروز جائزہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر